BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدالت از خود نوٹس لے: نیلوفر

نیلوفر بختیار
’وزارت اس لیے چھوڑی کے کُھل کر انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑ سکوں‘
سیاحت کی سابق وفاقی وزیر نیلوفر بختیار نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان لال مسجد انتظامیہ کی جانب سے ریاست کے اندر ریاست بنانے کا از خود نوٹس لے۔

نیلوفر بختیار نے منگل کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ اُنہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ لال مسجد انتظامیہ اور اُس کی جانب سے خود ساختہ شریعت کورٹ کے خلاف اب عدالت سے رجوع کریں گی۔

سابق وزیر سیاحت اور لال مسجد کے درمیان تنازعہ ایک فتوے سے شروع ہوا جس میں ان پر غیر شرعی حرکت کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں وزارت چھوڑنے کے لیئے کہا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے نیلوفر بختیار نے لال مسجد کی انتظامیہ کے اپنے خلاف دیے جانے والے فتویٰ کے خلاف ایک قانونی نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے اُن کی کردار کشی کی گئی تھی۔

نوٹس میں مطالبہ کیا گیا کہ لال مسجد انتظامیہ اُن سے نہ صرف معافی مانگے بلکہ اپنے ہاں شریعت کورٹ کے قیام کی بھی وضاحت کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ سات روز گزر جانے کے باوجود لال مسجد انتظامیہ کی جانب سے اُنہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جس کے بعد اُنہوں نے فیصلہ کیا ہے وہ عدالت کا درواز کھٹکٹائیں گی۔

نیلوفر بختیار کا کہنا تھا کہ مسجد انتظامیہ کی جانب سے فتوے کے بعد انہوں نے اپنی حکمراں جماعت مسلم لیگ اور اپنی قیادت سے مدد طلب کی تھی لیکن ان کی طرف سے مثبت جواب نہ ملنے پر انہوں نے اب سول سوسائٹی کی مدد سے لال مسجد اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے۔

جماعت چھوڑنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا اُنہوں نے کہا کہ وہ مسلم لیگ کا ہی حصہ رہیں گی اور صحیح منعوں میں مسلم لیگ کو قائداعظم کی جماعت بنا کر رہیں گی۔ نیلوفر بختیار کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے وزارت اس لیے چھوڑی کے وہ کُھل کر انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑ سکیں۔

سابق وفاقی وزیر نیلوفر بختیار کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے زلزلے سے متاثرہ بچوں کی امداد کے لیے فرانس میں پیرا شوٹ کی مدد سے چھلانگ لگا کر ایک نیک کام کا آغاز کیا تھا جس کے جواب میں انتہا پسندوں کی جانب سے اُن کو اور اُن کے بچوں کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔

واضح رہے کہ نیلوفر بختیار کی جانب سے قانونی نوٹس دیے جانے کے بعد لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے کہا تھا کہ سابق وزیر کی بدنامی لال مسجد کی جانب سے جاری فتوی کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ اُن کے اپنے فعل کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کو شرمندگی اُٹھانا پڑی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد