وزیرِ سیاحت نہیں جا رہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے سیاحت کی وزیر نیلوفر بختیار کا استعفیٰ نامنظور کرتے ہوئے انہیں کام جاری رکھنے کے لیے کہا ہے۔ نام نہاد فحاشی کا الزام لگانے والے شدت پسند مولویوں کی جانب سےان پر مستعفی ہونے کے لیے شدید دباؤ تھا۔ وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کابینہ میں وفاقی وزیر نیلوفر بختیار کی موجودگی ضروری ہے اس لیے وہ اپنی خدمات جاری رکھیں۔ نیلوفر بختیار کے خلاف فتویٰ طیارے سے کامیاب چھلانگ لگانے کے بعد شائع ہونے والی ایک ایسی تصویر کی بنا پر جاری کیا گیا تھا جس میں انہیں ایک مرد سے گلے ملتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ فتویٰ جاری کرنے والے مولوی کا کہنا تھا کہ نیلوفر بختیار کا طرزِ عمل فحش ہے۔ اس کے جواب میں نیلوفر بختیار کا کہنا تھا کہ تصویر گمراہ کن ہے اور انہوں نے کوئی غلط کاری نہیں کی۔ دریں اثنا پاکستان مسلم لیگ کے خواتین شعبے کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک وضاحت میں بھی کہا گیا ہے کہ نیلو بختیار کی پارٹی کے خواتین ونگ کی صدارت سے علیحدگی کا ’بغلگیری سکینڈل‘ سے کوئی تعلق نہیں۔
پارٹی نے نیلوفر کا استعفیٰ مسترد کرنے کے لیے وزیراعظم کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ مارچ 2005 میں وزیرِ سیاحت نےزلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لیے فنڈ جمع کرنے کی مہم کے سلسلے میں فرانس میں ایک طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگائی تھی۔ ان کے اس طرزِ عمل کو پاکستان کے بعض مولویوں نے فحش قرار دیا تھا کیونہ کامیاب چھلانگ کے بعد اخبار میں شائع ہونے والی ایک تصویر میں انہیں ایک مرد سے بغل گیر ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے اس تصویر کے بارے میں کہا تھا کہ ایک عمر رسیدہ شخص سے بغلگیر ہوتے ہوئے ان کی جو تصویر شائع کی گئی ہے وہ گمراہ کن ہے۔ لیکن اسلام آْباد کی لال مسجد کے شدت پسند مولوی نے ان کے خلاف فتویٰ جاری کر دیا جس میں کہا گیا کہ انہوں نے اسلامی اخلاقیات کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے بعد گزشتہ منگل کو اسلام آباد میں حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں اپنا اسعفیٰ وزیراعظم کو بھیج دیا ہے۔ فیکس کے ذریعے اخبارات کو بھی بھیجے جانے والے اپنے اس استعفے میں انہوں نے کہا تھا کہ ’پاکستان میں سیاحت کے فروغ سے گہری وابستگی کے باوجود میں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ ناگزیر حالات کی بنا پر کیا ہے‘۔
انہوں نے پاکستانا کے انگریزی اخبار روزنامہ ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’فرانسیسی ذرائع ابلاغ نے میرے بہادرانہ اقدام کو سراہا تھا لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے کچھ عناصر نے اس نیک مقصد کو مذوم انداز میں پیش کیا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ کو جس انداز سے ہیجان انگیز انداز میں پیش کیا گیا ہے، اس سے انہیں تکلیف ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نیک مقصد کے لیے وہ پھر بھی اس اقدام کو دہرانے کے لیے تیار ہیں‘۔ رائٹرس ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم ایسے لوگوں کی وجہ سے محدود نہیں ہو سکتے۔ مجھے اپنے اقدام پر کوئی تاسف نہیں ہے اور کسی نیک مقصد کے لیے اگر مجھے ایک مرتبہ پھر یہ کرنا پڑا تو میں کروں گی‘۔ | اسی بارے میں خودکش حملوں پر علماء کا فتویٰ17 May, 2005 | پاکستان زبردستی کی شادی کے خلاف فتویٰ13 April, 2005 | آس پاس بلوچستان: منشیات کے خلاف فتویٰ13 March, 2005 | پاکستان خواتین کا جاری کردہ پہلا فتویٰ24 September, 2003 | صفحۂ اول یہ جہاد نہیں:سعودی علماء 17 August, 2003 | صفحۂ اول رابطۂ عوام مہم اور ’فتویٰ‘ 15 August, 2003 | صفحۂ اول مصنفہ کیلئے سزائے موت کا اعلان26.11.2002 | صفحۂ اول امام کے حکم پر سنگساری؟07.07.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||