BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 May, 2007, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
استعفیٰ واپس لیا نہ لوں گی: نیلوفر

سیاحت کی وزیر نیلوفر بختیار
نیلوفر بختیار کے خلاف فتویٰ ایک ایسی تصویر کی بنا پر جاری کیا گیا تھا جس میں انہیں ایک مرد سے گلے ملتے ہوئے دکھایا گیا تھا
سابق وزیر سیاحت نیلوفر بختیار اپنا استعفیٰ نامنظور کیے جانے کے بعد بھی وزارت کے کام پر واپس آنے کو تیار نہیں ہیں۔

استعفیٰ رد کیے جانے کے اعلان کے بعد جمعرات کو انہیں دفتر میں ہونا تھا لیکن وہ جمعہ کے روز بھی کام پر موجود نہیں تھیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے حکومتی مسلم لیگ کی رکن نیلوفر بختیار نے کہا کہ انہوں نے وزیر کے طور پر اپنا استعفیٰ واپس لیا ہے اور نہ ہی کبھی ایسا کریں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی دوسری پارٹی میں شامل نہیں ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور ان کی پارٹی نے ان کی ’ کردار کشی اور اس بارے میں چلنے والی میڈیا مہم‘ کے خلاف کچھ بھی نہیں کیا جس کی بنا پر انہوں نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دیا تھا۔

نیلوفر بختیار نے کہا: ’پاکستان میں سیاحت کے فروغ سے گہری وابستگی کے باوجود میں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ ناگزیر حالات کی بنا پر کیا ہے۔ پارٹی سے میرا اور کوئی جھگڑہ نہیں۔‘

اس سال مارچ میں وزیرِ سیاحت نےزلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لیے فنڈ جمع کرنے کی مہم کے سلسلے میں فرانس میں ایک طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگائی تھی۔ ان کے اس طرزِ عمل کو پاکستان کے بعض حلقوں میں ناپسند کیا گیا تھا کیونکہ کامیاب چھلانگ کے بعد اخبار میں شائع ہونے والی ایک تصویر میں انہیں ایک مرد سے بغل گیر ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

فتویٰ جاری کرنے والے ایک مذہبی رہنماء کا کہنا تھا کہ نیلوفر بختیار کا طرزِ عمل فحش ہے۔ اس کے جواب میں نیلوفر بختیار کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

وزیراعظم شوکت عزیز نے نیلوفر بختیار کا استعفیٰ نامنظور کرتے ہوئے انہیں کام جاری رکھنے کے لیے کہا تھا۔

ایک قانونی ماہر کے مطابق وزارت کوئی آئینی عہدہ نہیں اور اس کے پانے اور کھونے کے قوائد اور ضوابط عام نوکریوں جیسے نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ایک وزیر صرف اپنا تحریری استعفیٰ کابینہ کو بھجوا کر گھر جا سکتا ہے، اور کوئی اسے کام کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔

اسی بارے میں
یہ جہاد نہیں:سعودی علماء
17 August, 2003 | صفحۂ اول
امام کے حکم پر سنگساری؟
07.07.2002 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد