منظور وٹو کے خلاف مقدمہ ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
احتساب عدالت لاہور نے سابق وزیر اعلی پنجاب میاں منظور احمد وٹو اور ان ہی کے دور کے صوبائی وزیر خوراک اقبال محمد ٹکا کے خلاف دائر بدعنوانی کے دو ریفرنس ختم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو ان دنوں حکومت میں شامل ہیں جبکہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین نے اقبال محمدٹکا کی بنیادی رکنیت حال ہی میں منسوخ کی ہے۔ سنیچر کی صبح احتساب بیورو کی جانب سے لاہور کی متعلقہ عدالت میں ایک درخواست دی گئی جس میں کہا گیا کہ نیب نے ان کے خلاف دائر کردہ دونوں ریفرنسوں کی دوبارہ سے تحقیقات کی ہے اوران کے خلاف بدعنوانی ثابت نہیں ہوسکی۔ احتساب عدالت نے مختصر سماعت کے بعد دونوں ریفرنس خارج کرنے کا حکم جاری کر دیا ۔ ختم کیے جانے والے دونوں ریفرنس ، پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر اقبال محمد ٹکا کے خلاف تھے اور ان میں سے ایک میں ان کے ساتھ اس وقت کے وزیر اعلی منظور احمد وٹو کو بھی شریک ملزم ٹہرایا گیا تھا۔ ماضی میں ان پر ریفرنس دائر کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اقبال محمد ٹکا نے بطور وزیر خوراک بعض فلور ملوں کو مقرر کردہ کوٹے سے زیادہ گندم فراہم کی جبکہ ایک دوسرے ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے سیزن نہ ہونے کے باوجود گندم کی خالی بوریاں زائد نرخوں پر خریدیں تھیں اور اس طرح انہوں نے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔ گندم کی خالی بوریوں والے ریفرنس میں نیب نے سابق وزیر اعلی پنجاب کو ان کا شریک ملزم ٹہرایا تھا۔ محمد اقبال ٹکا کے وکیل فاروق امجد نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ سودے بازی کے بعد متنازعہ رقم کی ادائیگی کے نتیجے میں عمل میں نہیں آیا بلکہ عدالت نے یہ فیصلہ نیب کی رپورٹ آنے کے بعد دیا ہے۔ اقبال محد ٹکا نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی جیت قرار دیا ہے۔ اقبال محمد ٹکا کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا لیکن کچھ عرصہ پہلے صدر مشرف کے لاہور دورے کے بعد پیپلز پارٹی نے ان کی اور غلام محی الدین کی بنیادی رکنیت منسوخ کر دی تھی۔ میاں منظور وٹو بھی مشرف دور میں گرفتار رہے ہیں لیکن پھر رہائی کے بعد وہ حکمران مسلم لیگ میں شامل ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||