BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 April, 2004, 11:32 GMT 16:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وٹو بدعنوانی کے مقدمات سے بری

 سپریم کورٹ
سپریم کورٹ منظور وٹو کو طبی بنیادوں پر پہلے ہی ضمانت پر رہا کر چکی ہے
انسداد بدعنوانی کی ایک خصوصی عدالت نے پنجاب کے سابق وزیراعلی میاں منطور احمد وٹو کو بدعنوانی کے ایک سے زیادہ مقدمات سے بری کردیاہے۔

آج سینئیر سپیشل جج براۓ انسداد بدعنوانی فیض طالب نے ایک مختصر فیصلہ میں منظور وٹو اور ان کے شریک ملزموں کو پنجاب انٹی کرپشن اسٹیبلشمینٹ کی طرف سے دائر مقدمات سے باعزت بری کردیا اور اعلان کیا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

پنجاب انٹی کپشن اسٹیبلشمینٹ نے منظور وٹو کے خلاف بدعنوانی کے مختلف الزمات کے تحت چھبیس اگست انیس سو اٹھانوے کو ایف آئی آر پچاس ننانوے، چوبیس ستمبر انیس سو اٹھانوے کو ایف آئی آر پچپن اٹھانوے ، دو فروری انیس سو ننانوے کو ایف آئی آر پانچ ننانوے اور اٹھائیس مئی انیس سو ننانوے کو ایف آئی آر سترہ ننانوے درج کرائی تھی۔

نو فروری انیس سو نانوے کو منطور وٹو کو انٹی کرپشن محکمہ نے گرفتار کرلیا تھا تاہم چند مہینوں بعد وہ طبی بنیادوں پر سپریم کورٹ سے ضمانت پر رہا ہوگئے تھے۔

منظور وٹو کے بیٹے معظم وٹو اور دوسرے رشتے دار مظہر وٹو، احمد شجاع وٹو اور نسیم وٹو بھی ایک مقدمہ میں شریک ملزم تھے اور وہ بھی ضمانت پر رہا ہوگئے تھے۔

ایف آئی آر پچاس ننانوے میں منظور وٹو پر بیت المال کی رقم خرد برد کا الزام لگایا گیا تھا اور انکوائری میں کہا گیا تھا کہ دو ڈرائیوروں کو بیت المال سے ایک لاکھ اور پانچ لاکھ روپے دیے گئے جبکہ وہ رقم اصل میں منظور وٹو کے رشتے داروں نے وصول کیے۔

ایف آئی آر پچپن اٹھانوے میں بھی منظور وٹو اور ان کے قریبی رشتے دار شجاع وٹو پر بیت المال سے پندرہ لاکھ روپے خرد برد کرنے کا الزمام لگایا گیا تھا اور انکوائری میں کہا گیا تھا کہ یہ رقم بظاہر ڈرائیووں میں بانٹی گئی۔

ایف آئی آر سترہ ننانوے میں منظور وٹو اور ان کے رشتے داروں احمد شجاع، لطیف وٹو وغیرہ پر ایک ملازمم نوازش علی کے نام پر بیت المال کے آٹھ لاکھ روپے خرد برد کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

چوتھے مقدمہ ایف آئی آر بیس ننانوے میں منظور وٹو پر سیلاب متاثرین کی امدادی رقم سے بیس لاکھ روپے خرد برد کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

ایک اور مقدمہ ایف آئی آر پانچ ننانوے میں الزمام لگایا گیا تھا کہ سابق وزیراعلی منظور وٹو وزیراعلی ہاؤس سے جاتے ہوۓ بیالیس لاکھ روپے مالیت کی اشیا اپنے ساتھ لے گۓ اور استغاثہ نے تفتیش کے دوران میں ان کے بیٹے معظم وٹو سے ایک وزیراعلی ہاؤس کا ایک گم شدہ ویڈیو پروجیکٹر برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اب تقریبا پانچ سال بعد سینیئر جج انٹی کرپشن نے سابق وزیراعلی پنجاب منظور وٹو اور ان کے شریک ملزموں کو ان تمام الزمات سے بری قرار دے دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد