BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 May, 2008, 19:46 GMT 00:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشتعل سب ہیں مگر بات کوئی نہیں کرتا‘

ڈمہ ڈولا
مقامی طالبان نے میزائل کا نشانہ بننے والےگھر کو گھیرے میں لیا ہوا ہے
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں بدھ کی شام ہونے والے حملے کے بارے میں تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ حملہ کس نے کیا اور اس کا نشانہ کون لوگ تھے۔ اس نامعلوم حملے سے سارے علاقے میں سخت خوف وہراس پھیل گیا ہے۔

جمعرات کی صبح جب پشاور سے مقامی صحافیوں کی ایک ٹیم کے ہمراہ مہمند ایجنسی کے لیے روانہ ہوئی تو ناواگئی چیک پوسٹ پر سکیورٹی فورسز نے تمام اخبارنویسوں کو یہ کہہ کر روک دیا کہ مقامی انتظامیہ نے صحافیوں کی باجوڑ ایجنسی میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

ایک اہلکار نے بتایا کہ انہیں پولیٹکل انتظامیہ کی طرف سے رات ہی کو احکامات ملے تھے کہ پشاور کے کسی صحافی کو ایجنسی کے حدود میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ تاہم بعد میں ایک قبائلی کے توسط سے ہم کچھ صحافیوں نے ایک دشوار گزار اور غیر معرف پہاڑی راستے سے پیدل جا کر چیک پوسٹ پار کی اور پھر ایک گاڑی کے ذریعے سے ڈمہ ڈولہ پہچنے میں کامیاب ہوئے۔

عنایت کلی سے ڈمہ ڈولہ تک راستے میں ہر طرف مسلح طالبان موجود تھے جبکہ اس پورے علاقے میں کوئی سکیورٹی اہلکار نظر نہیں آیا۔ شدت پسندوں کے گڑھ تصور کی جانے والی ماموند اور سالارزئی تحصیل کے بازاروں اور سڑکوں پر مسلح عسکریت پسند ٹولیوں کی شکل میں جگہ جگہ نظر آئے اور بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس پورے علاقے پر ان کا کنٹرول ہو۔

News image
 اس حملے کا امن بات چیت پر اثر نہیں پڑے گا لیکن یہ ہے کہ ہم اس واقعہ کا بدلہ ضرور لیں گے
مولوی عمر

پہاڑی علاقے میں واقع ڈمہ ڈولہ گاؤں پہنچے تو جائے وقوعہ کو طالبان اور مقامی لوگوں نےگھیرے میں لیا ہوا تھا۔ جمعرات کی صبح ہی سے مہمند اور باجوڑ ایجنسی کے دور دراز علاقوں سے سینکڑوں کے تعداد میں لوگ ہلاک شدگان کے جناوں میں شرکت کرنے اور جائے وقوعہ پر پہنچتے رہے۔

مبینہ میزائل حملہ گاؤں میں مسجد ے سے ملحق واقع ایک حجرے پر کیا گیا ہے جہاں مقامی لوگوں کے مطابق حملے کے وقت طالبان جنگجو کھانا کھانے میں مصروف تھے۔ چونکہ یہ حملہ رات کے وقت ہوا ہے اس لیے اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ اس حملے میں کوئی اہم طالبان کمانڈر یا غیر ملکی شدت پسند ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں تاہم حملے سے ایک کمرے پر مشتمل حجرہ مکمل طورپر جل کر تباہ ہوگیا ہے۔

وہاں موجود لوگوں میں اس واقعہ پر سخت غم وغصہ دیکھنے میں آیا۔ زیادہ تر لوگوں نے اس واقعہ کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کی تاہم اس سلسلے میں مزید پوچھنے پر وہ بات کرنے سے کتراتے رہے۔ ایک طالب سے پوچھا کہ وہ بات کیوں نہیں کرنا چاہتے تو اس نے کہا کہ انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بارے میں حجرے کے مالک ہی بتا سکتے ہیں۔

 میزائل کوئی آسمان سے تو نہیں ٹپکا بلکہ یہ سرحد پار سے آیا ہے ۔ پہلے بھی امریکہ باجوڑ پر حملے کرچکا ہے اور یہ حملہ بھی انہوں نے کیا ہے جس میں معصوم قبائلیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے
رکن قومی اسمبلی شوکت خان

حملے میں نشانہ بننے والے حجرے کے مالک عزیز اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں مسلمانوں کے دشمن ملوث ہیں تاہم انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ ’میرے بیٹے کے ہاں مہمند ایجنسی سے کچھ مہمان آئے تھے ان میں نہ تو کوئی غیر ملکی تھا اور نہ کوئی بڑا طالبان رہنما ، سارے طالب علم تھے، کھانا کھا رہے تھے کہ ظالموں نے ان پر بمباری کر دی‘۔

جائے وقوعہ پر تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی حکومت کے ساتھ ان کی امن بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو کسی نہ کسی قبائلی علاقے میں امریکہ کی طرف سے حملہ ہوتا ہے جس کا مقصد امن کے عمل کو سبو تاژ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس حملے کا امن بات چیت پر اثر نہیں پڑے گا لیکن یہ ہے کہ ہم اس واقعہ کا بدلہ ضرور لیں گے‘۔ ترجمان نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ بدلہ کس سے لیں گے۔

ادھر باجوڑ ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی شوکت خان کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے میزائل داغنے کی ٹیکنالوجی پاکستان کے پاس نہیں ہے اس لیے ان کے مطابق یہ حملہ امریکہ نے کیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میزائل کوئی آسمان سے تو نہیں ٹپکا بلکہ یہ سرحد پار سے آیا ہے ۔ پہلے بھی امریکہ باجوڑ پر حملے کرچکا ہے اور یہ حملہ بھی انہوں نے کیا ہے جس میں معصوم قبائلیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے‘۔

قبائلی علاقے باجوڑ پر میزائل حملہ باجوڑ، میزائل حملہ
’پاکستانی سکیورٹی فورسز ملوث نہیں‘
گائیڈڈ میزائل حملہگائیڈڈ میزائل حملے
قبائلی علاقوں میں گائیڈڈ میزائل حملوں میں اضافہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد