سندھ میں پولیو کا ایک اور کیس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام نے صوبہ سندھ میں پولیو کے ایک نئے کیس کی تصدیق کر دی ہے جس کے بعد اس برس سامنے آنے والے پولیو کیسوں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔ اس مہلک وائرس کا تازہ شکار ضلع دادو کے ایک گاؤں کی چھ ماہ کی بچی عریبہ بنی ہے۔اس بچی کی طرح ابھی تک سامنے آنے والے تمام مریضوں کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔ ایک ہی صوبے میں پولیو جیسے مہلک وائرس کے آٹھ کیسز سامنے آنے کے بعد اس پروگرام کے لیے فنڈز فراہم کرنے والے بین الاقوامی اداروں یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت کے حکام میں تشویش پائی جاتی ہے اور سندھ میں پولیو سے بچاؤ کی مہم کے انتظامات کے بارے میں بھی کئی سوالات نے جنم لیا ہے مثلاً یہ کہ کیا پولیو سے بچاؤ کی مہم کی کوریج سو فیصد نہیں ہوتی یعنی تمام بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے جاتے یا پھر یہ کہ کیا اینٹی پولیو ویکسین غیر مؤثر ہے۔ حفاظتی ٹیکوں اور قطروں کے قومی پروگرام کے صوبہ سندھ میں نگراں مظہر خمیسانی کہتے ہیں کہ پولیو سندھ میں وبائی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ کے بارے میں یقین سے تو اس وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن ایک ممکنہ وجہ والدین کی غلط بیانی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق’اب تک سندھ سے پولیو کے جو بھی کیسز سامنے آئے ہیں ان کے والدین کے مطابق انہیں دس سے بیس مرتبہ پولیو ویکسین کی خوراک دی گئی ہے۔ اس بچی عریبہ کے والدین بھی کہتے ہیں کہ اسے دو بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے ہیں تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ غلط بول رہے ہوں اور انہوں نے اپنے بچوں کو قطرے پلوائے ہی نہ ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے پھیلاؤ کی ایک اور وجہ غیرصحتمند ماحول ہو سکتا ہے۔’آپ کو پتہ ہے کہ یہ وائرس سفر کرتا ہے اور دیہات میں تو صحت و صفائی کا کوئی انتظام ہی نہیں ہے۔ پھر لوگوں کو صاف پانی دستیاب نہیں ہے‘۔ مظہر خمیسانی نے کہا کہ صحت و صفائی کی خراب صورتحال اور گندے پانی کے استعمال کی وجہ سے بچوں میں گیسٹرو اور ہیضے کی وباء بھی عام ہے جس سے بچوں کی قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ ہر چند ماہ بعد پولیو سے حفاظت کی مہم کے انتظام میں ممکنہ نقائص کی وجہ سے یہ بیماری پھیل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’محکمہ صحت کی نااہلی نہیں ہوسکتی۔ دیکھیں نا جب آپ بچوں کو پولیو ویکسین کی پوری خوراک دیتے ہیں تو پھر ان کی نااہلی کیسے ہوسکتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کا عملہ اپنا پورا کام کررہا ہے اور اگر والدین کہتے ہیں کہ متاثرہ بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے ہیں تو محکمہ کیا کرسکتا ہے۔ صوبہ سندھ میں اس سال پولیو کا سب سے پہلا کیس کراچی کے علاقے کورنگی میں رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد حیدرآباد، نوابشاہ، شکارپور، جیکب آباد، نوشہرو فیروز اور میرپورخاص اور اب دادو میں دیگر سات کیسز سامنے آئے ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ وائرس کراچی سے صوبے کے دوسرے اضلاع میں پھیلا ہے۔ مظہر خمیسانی بھی اسکی تائید کرتے ہیں۔’کراچی میں پچھلے سال جو کیس آیا تھا وہ قندھار افغانستان سے آیا تھا، وہ گیا۔ پھر قمبر شہدادکوٹ میں جہاں آپ کو پتہ ہے پچھلے سال سیلاب آیا تھا اور اس کے بعد وہاں تین چار کیسز سامنے آئے تھے، تو یہ اسی (وائرس) کی سرکولیشن ہے ابھی تک‘۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد چھبیس مئی سے سندھ میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ سے بچاؤ کی تین روزہ ہنگامی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے دوران چودہ اضلاع میں بچوں کو دوبارہ قطرے پلائے جائیں گے۔ یاد رہے کہ سندھ میں پچھلے سال پولیو کے گیارہ کیسز سامنے آئے تھے۔ دنیا میں صرف چار ممالک ایسے ہیں جن میں پولیو کا مرض پایا جاتا ہے ان میں پاکستان، بھارت، افغانستان اور نائجیریا شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے عالمی ادارہ صحت سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ 2000ء تک ملک سے پولیو کا خاتمہ کردے گی تاہم اب تک حکومت اس پر قابو نہیں پاسکی ہے۔ حال ہی میں قاہرہ میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں پولیو کے وائرس کے پھیلاؤ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ | اسی بارے میں پولیو مہم: عوامی کاوشیں ضروری 30 April, 2008 | پاکستان پولیو: افواہوں کے خلاف مہم21 April, 2007 | پاکستان اہلکاروں پر حملہ، پولیو مہم معطل08 August, 2007 | پاکستان طالبان پولیو مہم کے لیے راضی23 September, 2007 | آس پاس پولیو: دو سو ملین ڈالر کا عطیہ27 November, 2007 | آس پاس سوات میں پولیو مہم نہیں چلے گی17 January, 2008 | پاکستان پاکستان میں پولیو سے بچاؤ مہم21 January, 2008 | پاکستان پولیو کا خاتمہ: ابھی وقت لگے گا30 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||