’ادارتی پالیسی اور سچ کی سزا ملی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگریزی اخبار فرنٹئیر پوسٹ کے مالک رحمت شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ وہ منشیات کے جس مقدمہ میں اپنی عمر قید کی سزا تقریباً پوری کرچکے ہیں اس کی دوبارہ کھلی عدالت میں سماعت کی جائے اوران کی خواہش ہے کہ یہ سماعت ٹی وی چینلوں پر براہ راست دکھائی جائے۔ اینٹی نارکوٹکس عدالت نے جون دو ہزار ایک میں انہیں موت کی سزاسنائی تھی۔ بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا اور سپریم کورٹ نےعمر قید سزا کو برقرار رکھا تھا۔ رحمت شاہ آفریدی یہ سزا کاٹ چکے ہیں اور اب ان کی رہائی میں لگ بھگ چھ ماہ رہ گئے ہیں۔ان دنوں وہ لاہور کے سروسز ہسپتال میں جیل حکام کی نگرانی میں زیر علاج ہیں۔ رحمت شاہ آفریدی نے کہا کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور اس کی ایک وجہ ان کے بقول یہ ہے کہ انہوں نےحکمرانوں کے کہنے پر بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے خلاف جھوٹا وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کردیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت برطرف ہوچکی تھی، آصف زرداری حراست میں تھے اور دونوں کے خلاف مقدمات قائم کیے جارہے تھے۔ پاکستان کے انگریزی روزنامے کے چیف ایڈیٹر مالک نے کہا کہ ان کے انکار کے چند مہینوں کے بعد ہی انہیں لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل کے کمرے میں باوردی اور سادہ پوش فوجی اہلکاروں نے حراست میں لے لیا۔ رحمت شاہ آفریدی پر الزام ہے کہ اپریل سنہ انیس سو ننانوے کو ان کی کار سے بیس کلوگرام چرس برآمد ہوئی اور بعد میں ان کی نشاندہی پر فیصل آباد کے نواح میں ایک ٹرک سے مزید چھ سو اکیاون کلوگرام چرس برآمد ہوئی تھی۔ رحمت شاہ آفریدی کاکہنا ہے کہ ان کی گرفتاری کی دیگر وجوہات میں سے ایک ان کے اخبار کی جارحانہ ادارتی پالیسی اور سچ پر ڈٹ جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اخبار میں اینٹی نارکوٹکس فورس کے ان اہلکاروں کی نشاندہی کرچکے تھے جو منشیات کے دھندے میں ملوث تھے جبکہ نیب کی بلیک میلنگ کے بعد انہوں نے اخبار میں یہ بھی چھاپ دیا تھا کہ اب انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ پاکستان میں منشیات کی انسداد کے ادارے اینٹی ناکوٹکس فورس کی انتظامیہ فوجی افسروں پر مشتمل ہے۔ رحمت شاہ آفریدی نے کہا کہ جب انہیں پکڑا گیا تو انہیں یقین ہوگیا تھا کہ اب یہ انہیں جان سے مارنے کے لیے پھانسی پر لٹکا دیں گے۔ کیونکہ انہوں نے اسی فورس کی مبینہ بددیانتی کو ان کے بقول اپنے اخبار میں بے نقاب کیا تھا۔ ان دنوں میں رحمت شاہ آفریدی نے اپنی وصیت بھی لکھ کر اپنے اہلخانہ کے حوالے کردی تھی۔ رحمت شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق انہیں دو اپریل کو گرفتار کیا گیا لیکن درحقیقت وہ یکم اپریل کو حراست میں لیے جا چکے تھے اور بعد میں جب انہیں اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کا علم ہوا تو وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ انہوں نے اپنی گرفتاری اور اسیری کے واقعات پر مبنی ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ’اپریل فول‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب بھی جلد منظر عام پر آجائے گی۔ رحمت شاہ آفریدی نے کہا کہ مقدمہ کی سماعت کےدوران انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ مقدمے کی سماعت بلاوجہ ان کیمرہ قراردی گئی اور فیصلہ ہونے سے پہلے اس مال مقدمہ کو تلف کیا جاچکا تھا جسے ان سے برآمد ہونے والی چرس قرار دیا گیا۔ پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے رپورٹرز ود آؤٹ باڈرز نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’آفریدی کو مقدمے کی منصفانہ سماعت کا حق تک نہیں دیا گیا اور اب قید کی سزا پوری کرلینے کے باوجود رہا نہیں کیے جارہے۔‘ بیان میں کہا گیا کہ اخبارات کے مالکان ومدیران کی تنظیم کا رویہ ان کے ساتھ افسوسناک رہا اور وہ ان کی مدد کے لیے نہیں سامنے نہیں آئے۔ رحمت شاہ آفریدی کو جیل میں اچھے رویے کی رعایت سمیت سزا میں تخفیف کی چند سہولتیں ضرور ملی ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہیں بہت سی ایسی سزا معافیوں سے محروم کردیا گیا جو دیگر قیدیوں کو ملیں تھیں۔ رحمت شاہ آفریدی نے ایم اے اردو ادب کے امتحانات دے رکھے ہیں اور ان میں کامیاب ہونے کے نتیجے میں جیل قوانین کے تحت ان کی باقی سزا معاف ہوسکتی ہے لیکن رحمت شاہ آفریدی کہتے ہیں کہ یہ آزادی بے معنی ہے اگر ان کی بے گناہی ثابت نہ ہو سکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ جس جرم کی سزا وہ بھگت چکے ہیں اسی جرم کا مقدمہ دوبارہ سے کھلی عدالت میں چلایا جائے۔ اور اگر وہ اپنے اوپر اور اپنی وجہ سے صحافت کے مقدس پیشے پر لگنے والے داغ کو نہ دھو سکے تو پھر بہتر ہے کہ انہیں سزائے موت ہی دیدی جائے۔ |
اسی بارے میں توہین رسالت کی سزا کالعدم13 November, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||