بوڑھے باپ پرتوہین رسالت کا خوف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ساٹھ سالہ پربھو داس اپنے شہر میں اتنے خوفزدہ کبھی نہیں رہے جتنا خوف انہیں آجکل محسوس ہو رہا ہے۔ میرپور خاص کے مارواڑی ہندو محلے میں وہ اپنے گھر کو دن میں بھی اندر سے کنڈی لگا کر بیٹھتے ہیں ۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں مسلم شدت پسندوں سے خوف رہتا ہے کہ کہیں وہ انہیں بھی ان کےبیٹے جگدیش کی طرح توہین رسالت کا مرتکب قرار دیکر قتل نہ کردیں۔ پربھوداس چھبیس سالہ مزدور جگدیش کمار کے والد ہیں جنہیں اپریل کے ابتدائی ہفتے میں کورنگی کراچی کی ایک لیدر فیکٹری میں مبینہ طور پر توہین رسالت کی وجہ سے پتھر اور لوہے کی سلاخیں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔مسلم مزدوروں نے فیکٹری اوزاروں سے جگدیش کی آنکھیں بھی پھوڑ دی تھیں۔ پربھوداس کا کہنا تھا کہ اپنی تمام کوششوں کےباوجود وہ اپنے بیٹے کی مسخ شدہ لاش نہیں بھول سکتے۔بار بار جگدیش کا وہ لہولہان چہرہ ان کے سامنے آجاتا ہے اور وہ دن رات سوچتے رہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو اتنی بیدردری سے کیوں مارا گیا۔اس وقت جگدیش نے کتنا درد محسوس کیا ہوگا ؟ پربھوداس نے اپنے بیٹے کے قتل کا مقدمہ کورنگی چار تھانے میں درج کروانے سے انکار کردیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ ’جو ہمارا سہارا تھا وہ توگیا اب مقدمے سے اپنے لیے اور خطرہ کیسے مول لیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کراچی میں پولیس بھی ان(مسلم) کی ہےاور فیکٹری بھی ان کی ہماری کون سنے گا۔کراچی کی ہندو پنچایت نے بھی خاموش رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ہماری اس مقدمے میں کون مدد کرے گا‘۔ ایشیائی انسانی حقوق کی ایک کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جگدیش کو فیکٹری میں ساتھ کام کرنے والی ایک مسلم لڑکی سے قربت کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق فیکٹری کے سات سو ملازمین میں سے تین سو کا تعلق شدت پسند مذہبی تنظیم سنی تحریک سے ہے۔فیکٹری مزدوروں میں ساٹھ کاتعلق ہندو نچلی ذات مارواڑی سے ہے۔ پربھوداس کےمطابق فیکٹری کی ایک سپروائیزر نوشابہ نے جگدیش کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا جو بات دوسرے مزدوروں کو پسند نہیں تھی ۔ پربھو داس جگدیش کے قتل کے بعد اپنی پچپن سالہ بیوی کملا اور دو غیرشادی شدہ بیٹیوں کے ہمراہ اپنے چھوٹے سے مکان میں بند ہے۔وہ اپنی جان کو خطرے کی وجہ سے بازار میں نہیں نکلتے۔ پربھوداس نے بتایا کہ جگدیش کے قتل کے پندرہ دن بعد وہ میرپور خاص کے ایک بازار میں کام سے نکلے تو انہوں نے اپنے کانوں سے حراساں کرنے والے جملے سنے۔انہوں نے بتایا کہ چند لوگ کہہ رہے تھے ’اچھا ہوتا بیٹے کے ساتھ باپ کو بھی قتل کردیتے۔گستاخ رسول کو زند ہ رہنے کا حق نہیں‘۔ پربھوداس کے مطابق اس طرح کےجملے سننے کے بعد وہ گھر سے باہر قدم رکھتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ پربھو داس کے پاس وزیراعلٰی سندھ قائم علی شاہ کے ایک اقلیتی مشیر پیتامبر شیوانی بھی آئے تھے اور انہوں نے تسلی دی کہ وہ وزیراعلٰی کو رپورٹ کریں گے۔اس رپورٹ کاپربھو کو پتا نہیں کیا ہوا۔ پربھوداس کے پاس پاک فوج کے چند اہلکار بھی پہنچے تھے اور انہوں نے تحفظ فراہم کرنے کی پیشکش کی مگر پربھوداس کے مطابق انہوں نے منع کردیا۔ ’ہم مزدور آدمی کہاں اپنےساتھ سپاہیوں کو لیکر پھرتے رہینگے۔سپاہیوں کی موجودگی سے تو اور خطرہ بڑہ جاتا ہے لوگ دور سے ہی پہچان لیتے ہیں‘۔ پربھوداس کےمطابق انہیں گھر بیٹھے اور راستے پر چلتے بھی خوف رہتا ہے۔اگر وہ ہمارے جوان بیٹے کو پولیس کی موجودگی میں مار سکتے ہیں تو ہم جیسے بوڑھے اور بے یارو مددگار تو ان کے لیے آسان نشانہ بن سکتے ہیں۔ پربھوداس کا کہنا تھا کہ ہندو پنچایت نےانہیں پیغام دیا کہ ہے کہ جگدیش کا قتل کوئی فرقے کامعاملہ نہیں ہے اس لیے وہ تو خاموش ہیں مجھے بھی خاموش رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ | اسی بارے میں مبینہ توہین رسالت پر ہندومزدورہلاک08 April, 2008 | پاکستان ذاتی رنجش کو مذہبی رنگ دیا گیا: ورثاء09 April, 2008 | پاکستان توہین رسالت کا ملزم قتل16 June, 2006 | پاکستان پنجاب: اقلیتی اراکان کا احتجاج19 September, 2005 | پاکستان مسیحی پر توہینِ رسالت کا الزام11 September, 2005 | پاکستان کھاریاں: توہین رسالت کا ملزم قتل16 June, 2007 | پاکستان جائے نماز جلانے پر مقدمہ01 March, 2004 | پاکستان کاروکاری قتل تصور ہو گا 26 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||