مبینہ توہین رسالت پر ہندومزدورہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ایک فیکٹری مزدور کو اس کے ساتھ کام کرنے والوں نے پیغمبرِ اسلام کی شان میں مبینہ گستاخی کے الزام میں مار مار کر ہلاک کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق منگل کے روز کورنگی انڈسٹریل ایریا کی ایک فیکٹری میں کام کرنے والے ہندو مزدور جگدیش کو اس کے ساتھ کام کرنے والوں نے پیغمبرِ اسلام کی شان میں مبینہ طور پرگستاخی کرنے کے الزام میں مار مار کر ہلاک کردیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بائیس سالہ جگدیش کی اپنے ساتھی مزدوروں کے ساتھ کسی مذہبی معاملے پر بحث چھڑ گئی جس کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر پیغمبرِ اسلام کی شان میں گستاخی کردی۔ اس پر مسلمان مزدور مشتعل ہوگئے اور لاتیں اور مکے مار کر جگدیش کو ہلاک کر دیا۔
کورنگی پولیس کے ایس پی فرخ بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعہ کے بعد اس جگہ تین سے چار ہزار افراد جمع ہوگئے تھے اور امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور لوگوں کو منتشر کرتے ہوئے حالات کو قابو کیا اور جگدیش کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے جناح ہسپتال پہنچایا دیا۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر جو وجہ معلوم ہوئی ہے وہ تو یہ ہی ہے کہ جگدیش کو مبینہ گستاخِ رسول قرار دیکر ہلاک کیا گیا ہے تاہم اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کرنے کے بعد مکمل تحقیقات کی جائے گی اور اس واقعہ میں جو افراد ملوث ہوں گے ان کو گرفتار کیا جائے گا۔ جگدیش جگدیش کے بہنوئی راجو اپنے بھائی اشوک کے ساتھ جناح ہسپتال پہنچے تھے۔ راجو کا کہنا تھا کہ انہیں کچھ علم نہیں کہ اصل واقعہ کیا ہوا ہے جبکہ ان کے بھائی اشوک کا کہنا ہے کہ رسول کی شان میں گستاخی والی بات تو ہو ہی نہیں سکتی، ہوسکتا ہے کہ بات کوئی اور ہو لیکن الزام یہ لگا کر مار دیا ہو۔ اشوک نے کہا کہ ’مجھے پتہ ہے کہ میں آپ کے مذہب کے بارے میں کوئی بات نہیں کروں گا اور اسی طرح آپ لوگ ہمارے مذہب کے بارے میں کوئی بات نہیں کریں گے۔ اب ہو سکتا ہے کہ اصل بات کچھ اور ہو لیکن الزام یہ لگادیا ہو کیونکہ اس الزام کی تو تحقیقات بھی نہیں ہوں گی‛۔ اشوک نے کہا کہ وہ فیکٹری بھی گئے تھے لیکن وہاں فیکٹری کےگیٹ پر دو چوکیدار بیٹھے ہیں جبکہ پولیس بھی موجود ہے تاہم وہاں کام کرنے والا کوئی مزدور نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایسا مزدور جو اس وقت وہاں موجود تھا اسی سے پتہ چل سکتا ہے کہ اصل واقعہ کیا ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسے واقعات کا حکومت کی جانب سے تدارک نہیں کیا گیا اور ان کی وجوہات کی تہہ تک نہ پہنچا گیا تو پھر اس ملک میں اقلیتوں کا تحفظ سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔ | اسی بارے میں کھاریاں: توہین رسالت کا ملزم قتل16 June, 2007 | پاکستان علماء سے خائف مصنف11 October, 2007 | پاکستان ’احمدیوں کےاشتہار قیمتاً بھی نہیں‘04 February, 2008 | پاکستان کارٹون: کراچی میں مظاہرے01 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||