ذاتی رنجش کو مذہبی رنگ دیا گیا: ورثاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں گستاخِ رسول قرار دے کر ہلاک کیے جانے والے ہندو مزدور جگدیش کے اہلِ خانہ نے کہا ہے کہ ذاتی رنجش کو مذہبی رنگ دے کر جگدیش کو ہلاک کیا گیا ہے تاکہ اصل ملزمان قتل کے الزام سے محفوظ رہ سکیں۔ کراچی کے علاقے کورنگی انڈسٹریل ایریا میں منگل کو جگدیش پر الزام لگایا گیا تھا کہ اُس نے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی ہے اور اسے سینکڑوں مزدوروں نے تشدد کرکے ہلاک کردیا تھا۔ بدھ کو اس کی آخری رسومات اس کے آبائی شہر میرپورخاص میں ادا کی گئیں۔ میرپورخاص سے فون پر جگدیش کے والد پربھو جی سے رابطہ کیا گیا اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے ڈھائی سال قبل اپنے بیٹے کو کراچی بھیجا تھا تاکہ وہ ان کے بڑھاپے کا سہارا بن سکے اور مہنگائی کے اس دور میں خاندان کی کفالت کرسکے۔ پانچ بیٹیوں اور تین بیٹوں کے والد پربھو جی نے کہا کہ ’ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے، میرے بچے کو مار دیا ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی، اگر اس کی جگہ مجھے مار دیتے تو کیا فرق پڑتا، ہم اپنی فریاد کس سے کہاں کریں، ہم تو بس چُپ چاپ رو رہے ہیں۔‘ جگدیش کے بہنوئی اوم پرکاش نے کہا کہ پولیس میں مقدمہ درج کرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ایسا کرنے سے تو وہ خود مصیبت میں آجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم کس پر کیس کریں، پولیس تو آپ کو یہاں کی معلوم ہی ہے، ہم غریب آدمی ہیں ہم پھر کہاں جائیں گے اگر کوئی ہم کو ہی موت کی دھمکی دے دے، آپ تحفظ دے سکتے ہیں ہمیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ پاکستان ہماری جنم بھومی ہے، کم از کم انسانیت کا تو خیال کرلیتے، ہمارا دھرم ہمیں یہ ہی سکھاتا ہے – انسانیت، اگر میں انسان صحیح نہیں بن سکا تو میرا ہندو بننے کا کیا فائدہ۔‘ وہاں موجود جگدیش کے ایک اور رشتہ دار اشوک نے کہا کہ جو معلومات انہوں نے جمع کی ہیں ان کے مطابق یہ قتل ذاتی دشمنی کی بناء پر کیا گیا ہے لیکن اس کو مذہبی رنگ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں جگدیش کا ٹھیکیدار سے کچھ کھنچاؤ تھا اور اُس دن جگدیش کے ساتھ کام کرنے والوں نے کہا کہ جلدی نکل جاؤ لیکن اس کو گیٹ کے چوکیدار نے کمرے میں بٹھالیا کہ باہر تمہیں خطرہ ہے۔ پھر کوئی دو گھنٹے میں چار، پانچ سو افراد جمع ہوگئے اور جگدیش کو فیکٹری کے اندر ہی ہلاک کردیا۔ اشوک کے بقول جگدیش کی لاش فیکٹری سے باہر پھینکی گئی تاکہ فیکٹری مالکان پر کوئی بات نہ آسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس قتل کو باقاعدہ منصوبہ بندی سے مذہبی رنگ دیا گیا ہے تاکہ اس کیس کی تحقیقات ہی نہ ہوسکیں۔ پولیس کے ایس پی فرخ بشیر نے بتایا ہے کہ مقتول کے ورثاء میں سے کوئی بھی مقدمہ درج کرانے نہیں آیا لہذٰا اس واقعہ کے ایف آئی آر پولیس نے اپنی مدعیت میں درج کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس سے بارہ افراد کی نشاندہی ہوئی ہے تاہم اب تک گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے اور پولیس ملزمان کی تلاش میں ہے۔ | اسی بارے میں مبینہ توہین رسالت پر ہندومزدورہلاک08 April, 2008 | پاکستان کھاریاں: توہین رسالت کا ملزم قتل16 June, 2007 | پاکستان علماء سے خائف مصنف11 October, 2007 | پاکستان ’احمدیوں کےاشتہار قیمتاً بھی نہیں‘04 February, 2008 | پاکستان کارٹون: کراچی میں مظاہرے01 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||