صفدر سرکی رہائی کے احکامات جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان حکومت نے سندھی قوم پرست رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی کے خلاف تمام مقدمات واپس لے لیے گئے ہیں اور ان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ جیے سندھ قومی محاذ کے رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی کو پندرہ روز سے کوئٹہ کے سول ہسپتال میں وی آئی پی روم میں رکھا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے چھبیس ماہ تک وہ مختلف جیلوں میں رہے اور آج ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے گئے۔ سول ہسپتال میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے ڈاکٹر صفدر سرکی نے کہا کہ وہ یہاں زیر علاج ہیں ان کی صحت صحیح نہیں ہے انھیں آنکھوں ہڈیوں اور جلد کی بیماریاں لاحق ہیں جن کا وہ علاج کرائیں گے۔ رہائی کے احکامات جاری ہونے کے باوجود ڈاکٹر صفدر سرکی سول ہسپتال کے وی آئی پی روم میں رہے اور صحافیوں سے زیادہ باتیں کرنے سے مسلسل انکار کرتے رہے۔ ڈاکٹر صفدر سرکی سے امریکی قونصل خانے کے اہلکار نے بھی ہسپتال میں ملاقات کی جو ایک گھنٹے تک جاری رہی لیکن اس ملاقات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ سندھی قوم پرست رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی کے پاس امریکہ کی شہریت ہے اور ان کو معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کی جانب سے از خود نوٹس لینے کے بعد ظاہر کر کے دوبارہ باقاعدہ گرفتار گیا تھا۔ انھیں پہلے حب جیل میں اور بعد میں ژوب منتقل کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی کے حکم پر انھیں ژوب جیل سے کوئٹہ میں سول ہسپتال کے جیل وارڈ میں رکھا گیا تھا۔ اس سے قبل صفدر سرکی کے وکیل محمد خان شیخ نے ژوب سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ضلعی جج راشد محمود اور مقامی مجسٹریٹ کی عدالتوں نے تین مقدمات میں صفدر کی رہائی کےاحکامات جاری کر دیئے ہیں۔ بلوچستان حکومت نے حال ہی میں ایک اجلاس کے دوران بلوچ قوم پرست رہنما اختر مینگل اور سندھی قوم پرست رہنما صفدر سرکی کے خلاف قائم تمام مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ سندھی قومپرست رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی کو قریباً اٹھارہ ماہ لاپتہ رکھنےکے بعد گزشتہ سال گیارہ اکتوبر کو کراچی کےقریب بلوچستان کے علاقے حب میں پولیس نے باقاعدہ گرفتار کیا تھا۔ صفدر سرکی امریکی شہری اور ٹیکساس کے رہنے والے ہیں۔انہیں حال ہی میں سندھی قوم پرست جماعت جئے سندھ قومی محاذ کا دوبارہ بلامقابلہ مرکزی جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا ہے۔ اس سے قبل وہ تارکین وطن سندھیوں کی جماعت ورلڈ سندھی کانگریس کے چئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ صفدر سرکی کو معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کی جانب سے ازخود نوٹس لینے کے بعد ظاہر کر کے دوبارہ باقاعدہ گرفتار گیا تھا۔انہوں نے حب کی مقامی عدالت میں اپنے پہلے عدالتی بیان میں کہا تھا کہ وہ لاپتہ نہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی غیر قانونی قید میں تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی آنکھوں پر سیاہ کپڑے کی پٹی باندھنےکے بعد اٹھارہ ماہ قبر جیسے اندھیرے قید خانوں میں رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر صفدر سرکی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اٹھارہ ماہ سے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی غیر قانونی تحویل میں رہنے کے دوران صفدر سرکی کی آنکھوں پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور وہ رہائی کےبعد اپنے علاج کو ترجیح دیں گے۔ | اسی بارے میں صفدر سرکی جیل سےہسپتال منتقل11 April, 2008 | پاکستان ’قبر جیسے قید خانوں میں رکھاگیا‘22 October, 2007 | پاکستان سرکی سمیت تین لاپتہ ’مل گئے‘11 October, 2007 | پاکستان سندھی رہنماء کی رہائی کے لیے پٹیشن22 August, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد: اسمبلی میں احتجاج، بحث07 September, 2006 | پاکستان بگٹیوں کی بازیابی کے لیئے پیٹیشن17 July, 2006 | پاکستان صفدر سرکی کہاں ہیں؟ 23 May, 2006 | پاکستان کراچی: قوم پرستوں کی بھوک ہڑتال08 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||