BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 April, 2008, 09:20 GMT 14:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متحدہ کی سندھ میں تیرہ وزارتیں

وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ اور متحدہ کے رہنماء(فائل فوٹو)
’دونوں جماعتوں نے سندھ اور پاکستان کے عوام کی خدمت اور مسائل حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ امن اور استحکام برقرار رکھا جاسکے‘
سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے بعد اتحاد کا باضابطہ اعلان کیا ہے، جس کے بعد ایم کیو ایم کو تیرہ وزراتیں اور دو مشیر کے قلمدان دیئے جائیں گئے۔

یہ اعلان کراچی میں بدھ کی صبح وزیراعلیٰ ہاؤس میں سینیئر صوبائی وزیر پیر مظہر الحق اور ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد کیا۔

ایم کیو ایم کو صحت، صنعت وتجارت، انفارمشین ٹیکنالوجی، ماحولیات اور متبادل توانائی، کھیل، نوجوانوں کے امور، دیہی ترقی، پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ، اوقاف، بیورو آف سپلائیز اینڈ پرائسز اور انسانی حقوق کی وزارتیں دی گئی ہیں جبکہ دو وزراء بغیر محکموں کے ہوں گے۔

’وزارتیں اہم نہیں‘
 متحدہ قومی موومنٹ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہماری یہ شرائط ہیں، انہوں نے حکومت میں یا اپوزیشن میں پیپلز پارٹی کی غیر مشروط حمایت کی۔جب پیپلز پارٹی نے دیکھا کہ مفاہمت کی فضا پیدا کرنی ہے تو وزارتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں
پیر مظہر الحق
پیر مظہر الحق کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہماری یہ شرائط ہیں، انہوں نے حکومت میں یا اپوزیشن میں پیپلز پارٹی کی غیر مشروط حمایت کی۔ ’جب پیپلز پارٹی نے دیکھا کہ مفاہمت کی فضا پیدا کرنی ہے تو وزارتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں استحکام ہوگا اور آپس میں بھائیوں کی طرح رہیں گے، تو جو اصل مسائل ہیں ان کی طرف زیادہ اطمینان سے توجہ مرکوز کر سکیں گے اور ایک دوسرے کے تعاون سے ہم صوبے کو ایک ترقی یافتہ صوبہ بنائیں گے۔

پیر مظہر کا کہنا تھا کہ جس نیک نیتی کے ساتھ افہام وتفہیم کا راستہ اختیار کیا گیا ہے اس میں کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا، اگر دل صاف ہوں گے تو تحریری معاہدے کی ضرورت نہیں ہے ماضی میں تحریری نتائج کے حالات سب کے سامنے ہیں۔اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اس مفاہمت کا بنیادی مقصد ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اچھے اور خوشگوار تعلقات کا قیام ہے، اس ضمن میں شراکت اقتداپر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ جس کے بعد ایم کیو ایم ایک دو روز میں حکومت سندھ کا باقاعدہ حصہ بن جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین گزشتہ پانچ سال سے اور دو ہزار دو کے انتخابات کے بعد بھی یہ خواہش رکھتے تھے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جو اشتراک عمل طے کیا گیا ہے اس کا مقصد ہر حال میں قومی مفاہمتی عمل کو کامیاب بنانا ہے۔ اس کے لیے خاص طور پر اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات سے جو غیر مشروط حمایت اور تعاون خیر سگالی کا جذبہ رہا ہے وہ کسی سے چھپا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے سندھ اور پاکستان کے عوام کی خدمت اور مسائل حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ امن اور استحکام کو ہر صورت میں برقرار رکھا جاسکے اور سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں میں یکہجتی، ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، تعمیر اور ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ اس معاہدہ کا باضابطہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب دبئی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں ججوں کی بحالی پر مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

زرداری الطافسندھ میں ساتھ ساتھ
’پی پی پی متحدہ کو ساتھ لےکر چلنے کی خواہاں‘
اسی بارے میں
پی پی، متحدہ تصادم، ایک ہلاک
14 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد