متحدہ کی سندھ میں تیرہ وزارتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے بعد اتحاد کا باضابطہ اعلان کیا ہے، جس کے بعد ایم کیو ایم کو تیرہ وزراتیں اور دو مشیر کے قلمدان دیئے جائیں گئے۔ یہ اعلان کراچی میں بدھ کی صبح وزیراعلیٰ ہاؤس میں سینیئر صوبائی وزیر پیر مظہر الحق اور ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد کیا۔ ایم کیو ایم کو صحت، صنعت وتجارت، انفارمشین ٹیکنالوجی، ماحولیات اور متبادل توانائی، کھیل، نوجوانوں کے امور، دیہی ترقی، پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ، اوقاف، بیورو آف سپلائیز اینڈ پرائسز اور انسانی حقوق کی وزارتیں دی گئی ہیں جبکہ دو وزراء بغیر محکموں کے ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں استحکام ہوگا اور آپس میں بھائیوں کی طرح رہیں گے، تو جو اصل مسائل ہیں ان کی طرف زیادہ اطمینان سے توجہ مرکوز کر سکیں گے اور ایک دوسرے کے تعاون سے ہم صوبے کو ایک ترقی یافتہ صوبہ بنائیں گے۔ پیر مظہر کا کہنا تھا کہ جس نیک نیتی کے ساتھ افہام وتفہیم کا راستہ اختیار کیا گیا ہے اس میں کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا، اگر دل صاف ہوں گے تو تحریری معاہدے کی ضرورت نہیں ہے ماضی میں تحریری نتائج کے حالات سب کے سامنے ہیں۔اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اس مفاہمت کا بنیادی مقصد ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اچھے اور خوشگوار تعلقات کا قیام ہے، اس ضمن میں شراکت اقتداپر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ جس کے بعد ایم کیو ایم ایک دو روز میں حکومت سندھ کا باقاعدہ حصہ بن جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین گزشتہ پانچ سال سے اور دو ہزار دو کے انتخابات کے بعد بھی یہ خواہش رکھتے تھے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جو اشتراک عمل طے کیا گیا ہے اس کا مقصد ہر حال میں قومی مفاہمتی عمل کو کامیاب بنانا ہے۔ اس کے لیے خاص طور پر اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات سے جو غیر مشروط حمایت اور تعاون خیر سگالی کا جذبہ رہا ہے وہ کسی سے چھپا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے سندھ اور پاکستان کے عوام کی خدمت اور مسائل حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ امن اور استحکام کو ہر صورت میں برقرار رکھا جاسکے اور سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں میں یکہجتی، ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، تعمیر اور ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ اس معاہدہ کا باضابطہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب دبئی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں ججوں کی بحالی پر مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں متحدہ،پیپلز پارٹی میں اصولی اتفاق22 April, 2008 | پاکستان پی پی پی، متحدہ کا مِل کر کام کا عزم 16 April, 2008 | پاکستان ایم کیوایم، پی پی کا اظہارِ یکجہتی20 April, 2008 | پاکستان متحدہ: اسمبلی بائیکاٹ کا اعلان 07 April, 2008 | پاکستان متحدہ غیر مشروط حمایت: زرداری21 March, 2008 | پاکستان ’معاف بھی کیا اور معافی بھی مانگی‘03 April, 2008 | پاکستان پی پی، متحدہ تصادم، ایک ہلاک14 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||