پی پی پی، متحدہ کا مِل کر کام کا عزم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ اسمبلی کے تیسرے اجلاس میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے ایک دوسرے سے تعاون اور ساتھ لے کر چلنے کے عہد و پیمان کیے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی شام سپیکر نثار کھوڑو کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں متحدہ قومی موومنٹ نے بائیکاٹ ختم کرتے ہوئے شرکت کی اور اپوزیشن بنچوں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں مسلم لیگ ق، نیشنل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل کے اراکین نے بھی شرکت کی۔ صوبائی اسمبلی میں سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم سے پیش آنے والے نازیبا واقعہ پر اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔
متحدہ کے پارلیمانی رہنما سردار احمد، فیصل سبزواری اورشعیب بخاری نے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور اسپیکر نثار کھوڑو کو بلا مقابلہ کامیابی پر مبارک بادیں پیش کیں اور کہا کہ کالا باغ ڈیم، قومی مالیاتی ایوارڈ اور سیلز ٹیکس صوبوں کے حوالے کرنے پر متحدہ نے سخت گیر موقف اختیار کیا۔ صوبے کے عوام کے مفاد اور حقوق کے لیے پیپلز پارٹی کی بھی اس حوالے سے تائید کی جائیگی۔ پیپلز پارٹی کے اراکین نے متحدہ قومی مومنٹ کی اس پیشکش پر ڈیسک بجائے اور سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ کسی کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جائیگا، پیپلز پارٹی انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جن معاملات پر قانون سازی کرے گی اگر اپوزیشن کی جماعتیں سمجھیں کہ یہ صوبے اور ملک کے مفاد میں ہے تو پھر اس کی تائید کریں اگر کہیں کوتاہی دیکھیں تو اس کی نشاندہی کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ متحدہ چاہتی ہے کہ مفاہمت کا رویہ اختیار کیا جائے سندھ اسمبلی میں بدھ کو پانچ ترمیمی آرڈیننس اور ایک بل پیش کیا گیا۔ یہ آرڈیننس سرکاری ملازمین کے فوائد، وزرا کی مراعات، ٹریفک کے جرمانے اور سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کی تقرری کے اختیارات گورنر سے لے کر وزیراعلیٰ کے حوالے کرنے کے بارے میں تھے۔ سندھ کے سرکاری محکموں میں گریڈ سترہ سے لے کر اوپر کے گریڈ کی تمام ملازمتیں صوبائی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پر کی جاتی ہیں۔ صوبائی اسمبلی نے اس بل کو اکثریتی رائے سے منظور کرلیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی۔ اجلاس میں دو نئے اراکین اسمبلی میر حسن کھوسو اور ہیر سوہو نے حلف اٹھایا۔ میر حسن کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ انہیں اپنے حلقے میں دوبارہ گنتی کے بعد کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ ہیر سوہو کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے اور انہوں نے خواتین کی مخصوص نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اجلاس کے لیے سخت حفاطتی انتظامات کیے گئے تھے تاہم سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ | اسی بارے میں ایم کیو ایم: سندھ میں بھی اپوزیشن13 April, 2008 | پاکستان ’خدارا۔۔ خدارا انسانوں کو مت ماریں‘11 April, 2008 | پاکستان سندھ میں کابینہ نے حلف اٹھالیا11 April, 2008 | پاکستان سندھ کابینہ کا غیرمعمولی اجلاس 13 April, 2008 | پاکستان ’ایم کیو ایم کے تحفظات سے فرق نہیں پڑتا‘15 April, 2008 | پاکستان سندھ میں ایک ماہ میں بہتری:وزیر16 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||