BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 April, 2008, 23:06 GMT 04:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی پی، متحدہ کا مِل کر کام کا عزم

پی پی پی اور متحدہ کے اراکین
اجلاس کے لیے سخت حفاطتی انتظامات کیے گئے تھے تاہم سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
سندھ اسمبلی کے تیسرے اجلاس میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے ایک دوسرے سے تعاون اور ساتھ لے کر چلنے کے عہد و پیمان کیے ہیں۔

صوبائی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی شام سپیکر نثار کھوڑو کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں متحدہ قومی موومنٹ نے بائیکاٹ ختم کرتے ہوئے شرکت کی اور اپوزیشن بنچوں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں مسلم لیگ ق، نیشنل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل کے اراکین نے بھی شرکت کی۔ صوبائی اسمبلی میں سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم سے پیش آنے والے نازیبا واقعہ پر اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔

اختیار وزیر اعلیٰ کو منتقل
 اسمبلی میں بدھ کو پانچ ترمیمی آرڈیننس اور ایک بل پیش کیا گیا۔ یہ آرڈیننس سرکاری ملازمین کے فوائد، وزرا کی مراعات، ٹریفک کے جرمانے اور سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کی تقرری کے اختیارات گورنر سے لے کر وزیراعلیٰ کے حوالے کرنے کے بارے میں تھے۔
اجلاس میں نو اپریل کو کراچی میں ہنگامہ آرائی میں ہلاک ہونے والے دس افراد کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

متحدہ کے پارلیمانی رہنما سردار احمد، فیصل سبزواری اورشعیب بخاری نے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور اسپیکر نثار کھوڑو کو بلا مقابلہ کامیابی پر مبارک بادیں پیش کیں اور کہا کہ کالا باغ ڈیم، قومی مالیاتی ایوارڈ اور سیلز ٹیکس صوبوں کے حوالے کرنے پر متحدہ نے سخت گیر موقف اختیار کیا۔ صوبے کے عوام کے مفاد اور حقوق کے لیے پیپلز پارٹی کی بھی اس حوالے سے تائید کی جائیگی۔

پیپلز پارٹی کے اراکین نے متحدہ قومی مومنٹ کی اس پیشکش پر ڈیسک بجائے اور سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ کسی کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جائیگا، پیپلز پارٹی انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جن معاملات پر قانون سازی کرے گی اگر اپوزیشن کی جماعتیں سمجھیں کہ یہ صوبے اور ملک کے مفاد میں ہے تو پھر اس کی تائید کریں اگر کہیں کوتاہی دیکھیں تو اس کی نشاندہی کی جائے۔

نو اپریل کو ہلاک ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی
متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما فیصل سبزواری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی سے مزید بات چیت نہیں ہو رہی ہے مگر کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ چاہتی ہے کہ مفاہمت کا رویہ اختیار کیا جائے
اور تمام جماعتوں کو سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ اخباری بیانات کے بجائے عملی کام کریں اور سب کو ساتھ لیکر چلیں ۔

سندھ اسمبلی میں بدھ کو پانچ ترمیمی آرڈیننس اور ایک بل پیش کیا گیا۔ یہ آرڈیننس سرکاری ملازمین کے فوائد، وزرا کی مراعات، ٹریفک کے جرمانے اور سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کی تقرری کے اختیارات گورنر سے لے کر وزیراعلیٰ کے حوالے کرنے کے بارے میں تھے۔

سندھ کے سرکاری محکموں میں گریڈ سترہ سے لے کر اوپر کے گریڈ کی تمام ملازمتیں صوبائی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پر کی جاتی ہیں۔ صوبائی اسمبلی نے اس بل کو اکثریتی رائے سے منظور کرلیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی۔

اجلاس میں دو نئے اراکین اسمبلی میر حسن کھوسو اور ہیر سوہو نے حلف اٹھایا۔ میر حسن کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ انہیں اپنے حلقے میں دوبارہ گنتی کے بعد کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ ہیر سوہو کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے اور انہوں نے خواتین کی مخصوص نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

اجلاس کے لیے سخت حفاطتی انتظامات کیے گئے تھے تاہم سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد