BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 April, 2008, 22:55 GMT 03:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظفرآباد:نئےالیکشن، زور پکڑتا مطالبہ

کشمیر میں انتخابات(فائل فوٹو)
حزب مخالف تواتر سے نئے انتخابات کا مطالبہ کرتی رہی ہے لیکن پاکستان میں نئی حکومت کے بعد یہ مطالبہ زور و شور سے ہونے لگا ہے۔
پاکستان کے زیر اِنتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم چوہدری سلطان محمود نے کشمیر کے اس علاقے میں انتخابات دوبارہ کرانےکا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جولائی سن دو ہزار چھ کے عام انتخابات کے نتیجے میں مسلم کانفرنس کی حکومت دوبارہ برسر اقتدار آئی تھی اور حزب مخالف کی لگ بھگ تمام جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگا کر ان انتخابات کو مسترد کیا تھا۔

پیپلز مسلم لیگ کے سربراہ چوہدر سلطان محمود نے دوبارہ انتخاب کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں جہموریت کی بحالی کے ثمرات کشمیر کے اس علاقے کے لوگوں تک بھی پہنچنے چاہیں۔

’فرق کیا رہ گیا‘
 ’اگر وہاں( بھارت کے زیر انتظام کشمیر) بھی انتخابات میں دھاندلی ہوتی ہے اور یہاں( پاکستان کے زیر انتظام کشمیر) بھی ہوتی ہے اور وہاں بھی کٹھ پتلی حکومت ہے اور یہاں پر بھی کٹھ پتلی حکومت ہے تو پھر کشمیر کے معاملے پر ہمارا مقدمہ کمزور ہوتا ہے
سلطان محمود
انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کشمیر کے اس علاقے کی مسلم کانفرنس کی حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے اور یہ حکومت کشمیری عوام پر مسلط کی گئی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ’اگر ہم کشمیر کے اس علاقے کے لوگوں کو ووٹ کا حق نہیں دلوا سکتے ہیں تو پھر ہم کیسے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ووٹ کی بات کرسکتے ہیں جہاں پر آٹھ لاکھ بھارتی فوج ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ستمبر میں عام انتخابات ہو رہے ہیں اور ستمبر سے پہلے یہاں پر بھی دوبارہ انتخابات منعقد کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے مبصرین کو ان انتخابات کی نگرانی کے لیے دعوت دے سکتے ہیں اور وہ کشمیر کے دونوں حصوں میں جا کر یہ بتاسکیں کہ فرق کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر وہاں( بھارت کے زیر انتظام کشمیر) بھی انتخابات میں دھاندلی ہوتی ہے اور یہاں( پاکستان کے زیر انتظام کشمیر) بھی ہوتی ہے اور وہاں بھی کٹھ پتلی حکومت ہے اور یہاں پر بھی کٹھ پتلی حکومت ہے تو پھر کشمیر کے معاملے پر ہمارا مقدمہ کمزور ہوتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ مسلہ کشمیر پر یہ نقط نظر یہ ہے کہ کشمیر میں رائے شماری ہو تاکہ لوگ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں اور لوگوں کی اکثریت جو فیصلہ کرے گی وہی کشمیر کے مسلہ کا حل ہوگا۔

چوہدری سلطان محمود نے کہا کہ وہ اپنے مطالبے کے حق میں عنقریب عوامی رابط مہم کا آغاز کریں گے اور حزب مخالف کی دوسری جماعتوں سے بھی رابط کریں گے۔

حال ہی میں پاکستان کی پیپلز پارٹی کے سربراہ چوہدری عبدالمجید نے بھی خود مختار اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کی نگرانی میں دوبارہ انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جولائی سن دو ہزار چھ میں عام انتخاب ہوئے تھے جس کے نتیجے میں سردار عتیق احمد خان کشمیر کے اس علاقے کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔

سیاسی جماعتوں کا الزام ہے کہ پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے مسلم کانفرنس کو اقتدار میں لانے کے لیے کھلی مداخلت کی اور انتخابات میں دھاندلی کروائی۔
سردار عتیق احمد خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صدر پرویز مشرف کے قریب ہیں۔ لیکن مسلم کانفرنس کی حکومت دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

اگرچہ حزب مخالف کی جماعتیں تواتر سے نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن پاکستان کے عام انتخاب کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی قیادت میں نئی مخلوط حکومت کے قیام کے بعد یہ مطالبہ زور و شور سے کیا جانے لگا۔

اسی بارے میں
نئی حکومت پچیس جولائی تک
14 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد