BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 April, 2008, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکیورٹی فورسزکی تین لاشیں ملیں

فائل فوٹو
وزیرستان کے علاقے میں فوج اور طالبان کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہی ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے تین اہلکاروں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ سرکاری اہلکار تین لاشیں تابوتوں میں رکھکر شمالی وزیرستان کے علاقہ رزمک لائے تھے جس کے بعد لاشوں کو ان کے آبائی گاؤں روانہ کردیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سنیچر کو جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن لدھا میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تین مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جن کو گولیاں مار کر ہلاک کیاگیا تھا۔ لیکن انتظامیہ کے ایک دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے یہ اہلکار تین مہینے پہلے لدھا کے مقام پر مقامی طالبان کے ساتھ ایک لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے تھےجن کو لدھا میں ہی مقامی طالبان نے دفنا دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس وقت پورے علاقے میں شدید لڑائی چھڑگئی تھی اور لاشوں کو سنھبالنا ایک مشکل کام تھا۔ سکیورٹی فورسز کی جنگی مصروفیات کی وجہ سے کچھ لاشیں وہاں پر رہ گئی تھیں۔

انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جنوری دو ہزار اٹھ کو مکین اور لدھا کے مقام پرایک فوجی آپریشن میں سکیورٹی فورسز کے کچھ زخمی مقامی طالبان کے ہاتھوں لگ گئے تھے، جو وقت پر علاج نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان، سوات اور باجوڑ کے علاقے سے لاپتہ ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ یہ اہلکار کہاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو ملنے والی لاشوں میں دو باجوڑ سکاؤٹس فورس اور ایک فوجی اہلکار شامل ہے۔

یادرہے کہ دو ہزار سات کے اواخر اور دو ہزار اٹھ کے اوئل میں فوج نے جنوبی وزیرستان کے علاقہ محسود میں تین مقامات مکین، تیارزہ اور چگملائی پر ایک آپریشن شروع کیا تھا۔جس میں دونوں جانب سے کافی جانی نقصان ہوا تھا۔ اس سے پہلے بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان نے تین سو کے قریب سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو اغواء کیا تھا اور بعد میں ایک معاہدے کے تحت رہا کردیاگیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد