خواتین نشستوں کے بعد پارٹی پوزیشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر جن کامیاب امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے ان میں حسبِ معمول ایک بڑی تعداد تو مرکزی رہنماؤں کے قریبی رشتہ داروں کی ہے لیکن شاید پہلی بار عام پارٹی ورکرز بھی بڑی تعداد میں اسمبلیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ خواتین پارٹی کارکنوں کو مخصوص نشستوں پر ٹکٹ دینے کے سلسلے میں سب سے زیادہ فراخ دلی کا مظاہرہ پاکستان پیپلز پارٹی نے کیا ہے۔ خواتین کے لیے مخصوص نشتوں کے اعلان کے بعد آئندہ اسمبلی میں مشرف مخالف جماعتوں کے ارکان کی کل تعداد دو تہائی کی اکثریت کے قریب قریب پہنچ جاتی ہے جو آئین میں ترمیم اور صدر کے مواخذے کے لیے قانونی طور پر درکار ہے۔ پارٹی کارکنوں کی صف میں سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والی خواتین میں سب سے قابل ذکر نام پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون کارکن ساجدہ میر کا ہے جو پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔
لاہور کے علاقے لنڈہ بازار سے تعلق رکھنے والی ساجدہ میر ایک طویل عرصے سے پیپلز پارٹی سے منسلک ہیں۔ پارٹی کی اپیل پر لبیک کہنے والے کارکنوں میں وہ ہمیشہ ہراول دستے میں رہی ہیں۔ احتجاج ہو یا مظاہرے، لاٹھی چارج کا خطرہ یا گرفتاری کا ساجدہ میر کو پہلے بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر پارٹی ٹکٹ دیا گیا تھا لیکن ترجیحی فہرست میں نام بہت نیچے ہونے کی وجہ سے وہ منتخب نہ ہو سکی تھیں۔ اسی طرح پی پی پی سے تعلق رکھنے والی پنجاب اسمبلی کی نو منتخب ارکان نرگس فیض ملک، آصفہ فاروقی، نجمی سلیم، صاحبزادی نرگس ظفرن کا شمار بھی عام ورکرز میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر منتخب ہونی خواتین میں قابل ذکر نام معروف مزاحیہ اداکار رنگیلا کی صاحبزادی فرح دیبا کا ہے جو پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔ فرح دیبا پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور اس سے پہلے لاہور کی بلدیاتی سیاست میں کافی سرگرم رہی ہیں۔
اس کے علاوہ شہناز سلیم، پروین مسعود بھٹی، طیبہ ضمیر، شمائلہ رانا، صائمہ عزیز، محمودہ چیمہ، راحیلہ خادم حسین، شمسہ گوہر اور انیلا اختر چودھری بھی عام ورکرز کی کیٹیگری میں گنی جاتی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کو پنجاب سے قومی اسمبلی کی سولہ نشستیں حاصل ہوئی ہیں جن میں قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر جعفر اقبال کی اہلیہ بیگم عشرت اشرف، پارٹی کے مرکزی رہنماء جاوید ہاشمی کی صاحبزادی میمونہ ہاشمی، نو منتخب رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کی اہلیہ غزالہ سعد رفیق، پارٹی کی مرکزی رہنما تہمینہ دولتانہ اور سابق صوبائی وزیر نجمہ حمید کی بہن طاہرہ اورنگزیب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ چودھری جعفر اقبال اور بیگم عشرت اشرف کی صاحبزادی زیب جعفر خواتین کے لیے مخصوص نشست پر پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی ہیں جبکہ ان کی دو رشتہ دار مائزہ حمید اور نفیسہ امین بھی ان سے تعلق کی وجہ سے ہی اسمبلیوں پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب سے قومی اسمبلی کی بارہ، سندھ سے سات سرحد سے تین اور بلوچستان سے خواتین کی ایک نشست حاصل ہوئی ہے۔
پنجاب سے منتخب ہونے والی ارکان اسمبلی میں ناہید خان کی جگہ پارٹی کے شریک چیئرمین کی پولیٹیکل سیکریٹری نامزد ہونے والی رخسانہ بنگش، سابق وزیر مملکت شہناز وزیر علی اور چکوال سے پیپلز پارٹی کی رہنما فوزیہ بہرام کی بھانجی پلواشہ محمد زئی کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ چکوال کے حلقے این اے ساٹھ سے الیکشن ہارنے والی فوزیہ بہرام خود خواتین کے لیے مخصوص نشست پر پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہو گئی ہیں۔ پنجاب سے پی پی پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والی دیگر خواتین رہنماؤں میں نادرہ خاکوانی کی بیٹی اور سابق رکن اسمبلی بیلم حسنین، معروف قانون دان راجہ محمد انور کی صاحبزادی مہرین انور راجہ، پی پی پی پنجاب کی سیکریٹری اطلاعات فرزانہ راجہ، لاہور ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس فخرالنساء کھوکھر، پی پی پی کے بزرگ رہنما کرنل حبیب کی صاحبزادی فوزیہ حبیب، پارٹی کے سابق سینیئر نائب صدر شیخ رشید کی بیوہ شکیلہ رشید، پی پی پی لاہور کے سابق صدر میاں مصباح الرحمٰن کی اہلیہ اور اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کی بہن یاسمین رحمٰن اور گجرات پی پی پی کے رہنماء مشتاق پگانوالہ کی بہو ثمینہ مشتاق پگانوالہ شامل ہیں۔ سندھ سے پی پی پی کے ٹکٹ پر جو خواتین منتخب قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی ہیں ان میں مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیری رحمان، صوبائی صدر قائم علی شاہ کی صاحبزادی اور خیرپور کی سابق ضلعی ناظمہ نفیسہ شاہ اور امریکہ میں مقیم صحافی اور تجزیہ کار حسین حقانی کی اہلیہ فرح ناز اصفہانی قابلِ ذکر ہیں۔
صوبہ سرحد سے پی پی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والی خواتین میں عاصمہ ارباب عالمگیر بھی شامل ہیں جو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سے جیتنے والے رکن قومی اسمبلی ارباب عالمگیر کی اہلیہ ہیں۔ صدر مشرف کی حامی پاکستان مسلم لیگ قائدِ اعظم کے ٹکٹ پر جو خواتین قومی اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہیں ان میں سابق وفاقی وزراء سمیرا ملک، بیگم شہناز شیخ، عطیہ عنایت اللہ، سابق ارکان اسمبلی کشمالہ طارق، دونیا عزیز، بشری رحمان اور نگران وزیر اطلاعات نثار میمن کی صاحبزادی ماروی میمن شامل ہیں۔ پی ایم ایل ق کے ٹکٹ پر سندھ سے سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی صاحبزادی فزا جونیجو اور بلوچستان سے سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال کامیاب قرار پائی ہیں۔ خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پر کامیاب امیدواروں کے ناموں کے اعلان کے ساتھ ہی قومی اور صوبائی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن بھی مزید واضح ہو گئی ہے۔ خواتین کی تئیس اور اقلیتوں کی چار نشستیں ملنے کے بعد قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد ایک سو بیس ہو گئی ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی پارلیمانی پارٹی اب نوے ارکان پر مشتمل ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی تیسری اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کو خواتین کی تین سیٹیں ملنے کے بعد قومی اسمبلی میں اس کی نشستوں کی تعداد تیرہ ہو گئی ہے۔ اس طرح اگر اتحاد میں شامل تینوں جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی کو اکٹھا کیا جائے تو تعداد دو سو تئیس تک جا پہنچتی ہے جو دو تہائی اکثریت سے صرف پانچ ارکان کم ہے۔ ان میں اگر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے سے منتخب ہونے والے ان آزاد ارکان کو شامل کر لیا جائے جنہوں نے پی پی پی کی قیادت کو حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے تو یہ تعداد آسانی سے دو تہائی سے بڑھ جاتی ہے جو قانون میں ترمیم یا صدر کے مواخذے کے لیے ضروری ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||