BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 February, 2008, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو تہائی اکثریت یا امریکی دباؤ

صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف
انتخابات کے بعد سے صدر مشرف کے مستقبل کے بارے میں سوالات بار بار اٹھائے جا رہے ہیں
نئی پارلیمان کی جانب سے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی ممکنہ کارروائی پر اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان واضح اختلافات کے اشارے ہیں۔

عام انتخابات میں دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آنے والی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے پیر کو صدر پرویز مشرف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئی پارلیمان سے مواخذے کی کارروائی سے بچنے کی خاطر اپنے بارے میں پہلے ہی فیصلہ کر لیں۔

تاہم صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے ترجمان نے ایک مرتبہ پھر صدر کے مستعفی ہونے کے فیصلے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہوں نے آج کل حکومتی جوڑ توڑ پر اثرانداز ہونے سے بچنے کی خاطر میڈیا سے دوری اختیار کی ہوئی ہے۔

نواز شریف نے اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد سے ایک ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف کو چاہیے کہ وہ نئی پارلیمان سے مواخذے کی کارروائی سے قبل ہی مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیں ورنہ ان کے بقول وہ پارلیمان کو خودمختار بنانے کے لیے جو بھی ضروری قدم ہوا اٹھائیں گے۔ ان کا موقف تھا کہ صدر جتنا جلد اقتدار سے الگ ہوجائیں اتنا بہتر ہوگا۔

لیکن دوسری جانب آئندہ حکومت میں ان کے متوقع اتحادی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پیر کو ہی امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل’ میں شائع ہونے والے انٹرویو میں کہا ہے کہ مواخذے کی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے وہ صدر سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔

سینٹ میں ق لیگ
 قومی اسمبلی میں تو دونوں جماعتوں کو واضح اکثریت ہے اور شاید آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں سے مل کر وہ دو تہائی اکثریت بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن ایوان بالا یعنی سینٹ میں سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کو واضح اکثریت حاصل ہے

ان کا کہنا تھا کہ اصل زمینی حقائق یہ ہیں کہ ان کے پاس پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ مواخذے کی قرار داد کو کامیاب کرانے کے لیے پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادی مسلم لیگ نواز اور عوامی نیشنل پارٹی کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت یعنی تین سو باسٹھ اراکین کی حمایت کی ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی میں تو انہیں واضح اکثریت ہے اور شاید آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں سے مل کر وہ دو تہائی اکثریت بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن ایوان بالا یعنی سینٹ میں سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کو واضح اکثریت حاصل ہے۔ سو اراکین کے اس ایوان میں انتالیس کا تعلق مسلم لیگ (ق) سے ہے۔ ایسے میں مواخذے کی کارروائی کا کامیاب ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

البتہ عام انتخابات میں ان جماعتوں کی کامیابی کے بعد سے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے مستقبل کے بارے میں سوالات بار بار اٹھائے جا رہے ہیں۔ صدارتی امیدوار کی جانب سے مختلف اخبارات میں مستعفی ہونے کے فیصلے کی تردید کے باوجود قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بعض ذرائع کے مطابق صدر کی توقعات کے مطابق انتخابی نتائج سامنے نہ آنے کے بعد سے وہ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ تاہم آج صدارتی ترجمان سے جب تازہ صورتحال جاننے کی کوشش کی تو ان کا ردعمل کافی سخت تھا۔ ’تین روز بعد آپ دوبارہ وہی سوال پوچھ رہے ہیں۔‘

عام انتخابات کے بعد سے صدر میڈیا پر بھی کچھ زیادہ نظر نہیں آ رہے۔ بعض لوگ ان کی کم مصروفیات کی وجہ بھی انتخابی نتائج بتا رہے ہیں لیکن صدارتی ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی کے مطابق چونکہ حکومت سازی کا عمل جاری ہے لہذا صدر نہیں چاہتے کہ ان پر اس عمل پر اثر انداز ہونے کا الزام لگے۔

عام انتخابات سے صدر کی سیاسی مشکلات یقیناً کم نہیں ہوئی ہیں تاہم پیپلز پارٹی کا تازہ بیان پہلا واضح مفاہمتی اشارہ ہے جو صدر کو بچا سکتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں صدر نے امریکہ سے مدد جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان جیسے ممالک میں جمہوریت کی تعمیر انتہائی مشکل ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں پیپلز پارٹی کے موقف میں نرمی امریکی دباؤ کا ہی حصہ ہے تاہم پارٹی اس سے انکار کرتی ہے۔

امریکی جھنڈاجنگ کا کیا بنے گا؟
پاکستانی انتخابات کے بعد امریکی پریشانیاں
’امریکہ مشرف کی حمایت نہ کرے‘ن لیگ کا مطالبہ
’امریکہ مشرف کی حمایت نہ کرے‘
انتخاباتتیر اور شیر کی جیت
مشرف کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے
جنرل فیض علی چشتی’مشرف خطرہ ہیں‘
سابق فوجیوں کا مشرف سے استعفیٰ کا مطالبہ
اسفندیار ولیسرحد کا سیاسی منظر
’اتحاد کوئی بھی وزارتِ اعلٰی اے این پی کی‘
پاکستان مسلم لیگ نوازپنجاب میں محدود
نواز لیگ سنٹرل اور شمالی اضلاع میں جیتی
جیتامید کی ایک کرن
پاکستان میں نئی حکومت سے جنوبی ایشیاء پُرامید
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد