محسود کےخلاف توپخانے کااستعمال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود کے خلاف جاری آپریشن میں ایک دن کے خاموشی کے بعد توپ خانے کا استعمال پھر شروع ہوگیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد علاقے سے نقل مکانی کرکے ٹانک، شمالی وزیرستان پہنچ رہی ہے۔ ٹانک پہنچنے والے متاثرین نے الزام لگایا کہ علاقے میں جاری کارروائی سے عام لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ٹانک کی شاہ جہاں مسجد میں پڑی لاشوں کو مقامی لوگوں کی شناخت پر دوبارہ جنوبی وزیرستان روانہ کردیا گیا۔ مقامی انتظامیہ نے اتوار کو علاقہ محسود میں توپخانے کے دوبارہ استعمال اور نقلِ مکانی کی تصدیق کی ہے۔ علاقہ محسود سے ملنے والے تمام راستے بدستور بند ہیں۔ جنوبی وزیرستان سے پیدل پہنچنے میں ٹانک تک کا راستہ بیس گھنٹوں سے زیادہ کا ہے اور اس سفر کے بعد ٹانک پہنچنے والوں کے لیے حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی بندوست نہیں۔ دشوار گزار پہاڑی راستوں سے ٹانک پہنچنے والے ایک خاندان کے سربراہ پچاس سالہ شاہ جہاں نے بتایا کہ فوجی علاقے میں ہیلی کاپیٹروں سے پمفلٹ گرتے ہیں۔ جس میں بتایا جاتا ہے کہ عام شہری علاقے سے نکل جائیں اور گھروں کو خالی کردیں۔ شاہ جہاں کے مطابق جب وہ گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں تو فوجی ہی انہیں راستے سے واپس جانے پر مجبور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ محسود کی اکثر آبادی گھروں سے نکل کی کھلے آسمان تلے پڑی ہے۔ ان کے مطابق سخت سردی سے ضعیف عورتیں اور بچے مر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سراروغہ کے علاقے میں انہوں نے خود چودہ لاشیں دیکھی ہیں جن میں چار بچے تھے۔ انہوں کہا کہ بمباری میں سویلین کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ ’جنوبی وزیرستان میں جاری کارروائی کے متاثرین ٹانک شہر کے مغربی علاقے عمراہ اور گومل میں کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور صرف اللہ کے سہارے جی رہے ہیں‘۔ حضرت علی کا کہنا ہے کہ توپخانے اور گن شپ ہیلی کاپٹر کی فائرنگ سے سویلین آبادی ہی نشانہ بن رہی ہے۔ وہ بیس گھنٹوں کے سخت اور تکلیف دہ سفر کے بعد پیدل اپنے بچوں کے ساتھ ٹانک پہنچے ہیں اور تین دن کے بھوکے ہیں اور ٹانک میں بھی کوئی ریلیف نہیں ہے۔ ٹانک شہر میں آباد محسود قبائل نے متاثرین کو سنبھالنے کے لیے مختلف کمیٹیاں بنائی ہیں ایک کیمٹی کے سربراہ سعادت خان نے بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں جاری کارروائی اسرائیل اور عراق سے بھی ابتر ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل اور امریکہ بھی اتنا ظلم نہیں کریں گے جتنا کہ آج کل یہاں جنوبی وزیرستان ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ محسود قبائل کا ایک جرگہ بھی ٹانک میں پولیٹکل انتظامیہ سے گفت و شنید میں مصروف ہے۔ جرگے میں شامل اور سابقہ ممبر قومی اسمبلی مولانا معراج الدین سے جب اس ساری صورتحال کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ علاقے میں اکثر بچے اور عورتیں ہی متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تیارزہ کے علاقے میں دس سے تیرہ بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ معراج الدین کی اس بات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان میں حکام کے مطابق کارروائی صرف بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے خلاف ہے لیکن متاثرین نے الزام لگایا کہ کارروائی پورے محسود قبائل کے خلاف جاری ہے۔ | اسی بارے میں وزیرستان آپریشن کے خلاف مظاہرے12 October, 2007 | پاکستان وزیرستان: جنگ بندی ابھی نہیں16 October, 2007 | پاکستان باجوڑ میں دو قبائلی ملک قتل20 October, 2007 | پاکستان ’غیر ملکیوں‘ کی مدد پر گھر مسمار20 October, 2007 | پاکستان ہزاروں اہلکار تعینات، سکول بند24 October, 2007 | پاکستان فوج نے قبضہ نہیں کیا:کمانڈر ٹانک28 October, 2007 | پاکستان ’ہنگو،ٹانک میں حملےطالبان نے کیے‘21 August, 2007 | پاکستان ٹانک کشیدہ، فوج تعینات 13 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||