BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 January, 2008, 10:19 GMT 15:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درہ آدم خیل میں لڑائی جاری

درہ آم فوج
پاکستانی فوج اسلحہ سے بھرے چار ٹرکوں کو بازیاب کرانے کی کوشش کر رہی ہے
پشاور سےچالیس کلو میٹر دور درہ آدم خیل میں مقامی طالبان اور پاکستانی فوج میں شدید لڑائی جاری ہے اور طالبان نےاغواکیے جانےوالے پندرہ فوجیوں میں سے پانچ کو ہلاک کر دیا ہے۔

درہ آدم خیل شہر پر مقامی طالبان کا مکمل کنٹرول ہے۔ فوجی گن شپ ہیلی کاپٹر قریبی پہاڑوں پر طالبان کےمورچوں پر گولہ باری کر رہے ہیں۔

درہ آدم خیل میں طالبان کے کمانڈر عبد الجبار نے بتایا ہے کہ انہوں نے پندرہ پاکستانی فوجیوں کو کوہاٹ سرنگ کے قریب فوجی چوکی پر حملے کے دوران حراست میں لیا تھا جن میں سے پانچ شدید زخمی حالت میں تھے جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان نے فوجیوں کےاغوا کی تردید کی ہے لیکن بی بی سی کے نامہ نگار نے طالبان کے زیر حراست فوجیوں سے ملاقات کی ہے۔

بی بی سی کے نمائندے نے بتایا ہے کہ شہر میں جگہ جگہ طالبان نے چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں جہاں آنے والے والوں کی تلاشی لی جاتی ہے۔

لوگ بڑی تعداد میں آدم خیل سے نقل مکانی کر رہے ہیں
لوگ بڑی تعداد میں آدم خیل سے نقل مکانی کر رہے ہیں

عینی شاہدین کے مطابق صوبہ سرحد کو بلوچستان، سندھ اور جنوبی اضلاع سے ملانے والی واحد کوہاٹ سرنگ پر طالبان پر کنٹرول ہے اور وہ ہر قسم ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق درہ آدم خیل میں فوجی آپریشن نہیں ہو رہا بلکہ اسلحہ سے بھرے چار فوجی ٹرکوں کو اغوا کیے جانے کے بعد درہ آدم خیل میں شرپسندوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔

پاکستان فوج اسلحہ سے بھرے فوجی ٹرکوں کو ابھی تک بازیاب نہیں کرا سکی ہے۔

دوسری طرف تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ اغواء کیے جانے والے اسلحہ اور بارود سے لدے ٹرک اب بھی طالبان کے قبضے میں ہیں۔

اسلحے کی فیکٹریوں کے لیے مشہور درہ آدم خیل پشاور سے تقریباً چالیس کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور یہ علاقہ گزشتہ دو سال سے ایسے مسلح نامعلوم افراد کا گڑھ بن چکا ہے جنہیں مقامی طور پر طالبان کا نام دیا جاتا ہے۔

اس علاقے میں موجود لڑکیوں کے سکولوں، حجام اور منشیات اور ویڈیو سی ڈی فروخت کرنے والی دکانوں کو بھی مسلسل بم حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

اسی بارے میں
طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے
16 January, 2008 | پاکستان
’نوے عسکریت پسند ہلاک‘
18 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد