پشاور دھماکہ: مزید دو زخمی دم توڑگئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کے گنجان آباد علاقے قصہ خوانی کے گنجی محلے میں واقع مرزا قاسم بیگ امام بارگاہ پر جمعرات کی رات کو ہونے والے خوکش حملے میں مرنے والوں کی تعداد بارہ اور زخمیوں کی تئیس تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری طرف امام بارگاہ کے متولی سمیت مرنے والے تین افراد کی نمازِ جنازہ میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی ہے جبکہ اس موقع پر شہر کے تمام سرکاری تعلیمی ادارے اور بعض کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے۔ کابلی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او امتیاز احمد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پچیس زخمیوں میں سے دو افراد نےگزشتہ شب ہسپتال میں دم توڑ دیا جس کے بعد خوکش حملہ آور سمیت مرنے والوں کی تعداد بارہ ہوگئی جبکہ ان کے بقول باقی تیئس کے قریب زخمیوں کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ابھی تک کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا جبکہ ایس ایس پی تفتیش غلام حسین کی سربراہی میں ایک تفتیشی ٹیم نے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ان کے بقول تفتیش میں کچھ حد تک پیشرفت ہوئی ہے تاہم فی الوقت منظر ان تفصیلات کو منظرعام پر نہیں لایا جاسکتا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ شہر کے باقی مقامات پر واقع امام بارگاہوں کی طرح مرزا قاسم امام بارگاہ پر جیمرز، ڈیٹکٹر اور سکینر کے انتظامات کیوں نہیں کیے گئے تھے تو ان کا کہنا تھا کہ’واقعہ کے وقت امام بارگاہ کے محافظین کے پاس دو جبکہ پولیس کے پاس بھی ڈیٹکٹرز موجود تھے مگر جونہی انہوں نے ان ڈیٹکٹر ز کے ذریعے حملہ آور کو شناخت کرنے کے بعد اسے قابو کرنے کی کوشش کی تو وہ پولیس اہلکاروں کو دھکا دے کر امام بارگاہ کے اندر داخل ہوگیا‘۔ امتیاز احمد کے مطابق اندر داخل ہوتے ہی خودکش حملہ آور نے مجلس پڑھنے والے ذاکر پر فائرنگ کی اور بھگدڑ مچتے ہی خود کو ایک زوردار دھماکے کے ساتھ اڑا دیا۔
ادھر جمعہ کی صبح گیارہ بجے امام بارگاہ کے متولی وقار حسین مرزا سمیت تین افراد کی نماز جنازہ کوہاٹی چوک میں پڑھائی گئی جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ جنازے کے بعد شرکاء نے شدید نعرے بازی بھی کی۔ نمازِ جنازہ سے قبل امام بارگاہ کی جانب جانے والی تنگ و تاریک گلی کے ایک راستے کو قنات اور خاردار تاریں بچھا کر بند کردیا گیا تھا جبکہ دوسرے راستے پر پولیس اہلکار جامہ تلاشی لے کر لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دے رہے تھے۔ اس موقع پر امام بارگاہ سے متصل مشہور قصہ خوانی بازار اور پرنٹنگ پریس کا جنگی بازار مکمل طور پر بند رہا۔گزشتہ روز کے حملے کے بعد پشاور کے ضلعی ناظم حاجی غلام علی کے حکم پر تمام سرکاری تعلیم اداروں کو بند کر دیا گیا تھا جبکہ پشاور یو نیورسٹی کو بھی جمعہ سے اتوار تک بند کر دیا گیا ہے۔ جمعہ کی صبح معمول سے ہٹ کر صدر اور خیبر بازار جیسے کاروباری مراکز میں کئی دکانیں بند رہیں جبکہ بازار میں لوگوں کا رش اور سڑکوں پر ٹریفک کا بہاؤ بھی کم نظر آیا۔ یاد رہے کہ حکومت نے محرم الحرام کے آغاز سے ہی ملک میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے تھے اور صوبہ سرحد کی نگراں حکومت نے محرم کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی اور امن ِعامہ کی غیر تسلی بخش صورتِحال کے پیشِ نظر پشاور سمیت چار اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا تھا۔ |
اسی بارے میں پشاورامام بارگاہ: خود کش دھماکہ، 10ہلاک17 January, 2008 | پاکستان محرم: سرحد میں سکیورٹی سخت10 January, 2008 | پاکستان لاہور بم دھماکہ، ہلاکتوں میں اضافہ11 January, 2008 | پاکستان کراچی: ہلاکتوں کی تعداد گیارہ 14 January, 2008 | پاکستان ’دہشتگردی میں انیس فیصد اضافہ‘14 January, 2008 | پاکستان محرم، پینتیس اضلاع حساس11 January, 2008 | پاکستان ’دو سال میں 140 خودکش بمبار‘10 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||