BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 January, 2008, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خطرناک ملزم فرار، پولیس افسر ہلاک

پاکستانی پولیس (فائل فوٹو)
پولیس افسر پرحملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے (فائل فوٹو)
کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی فورس کی جیل سے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ملوث دو ملزم فرار ہو گئے ہیں جبکہ بلوچستان کے شہر خضدار میں نا معلوم افراد نے فائر نگ کرکے خضدار جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہلاک کر دیا ہے۔

کوئٹہ کے پولیس افسر محمد اکبر نے بتایا ہے کہ آج صبح انسداد دہشت گردی فورس کی جیل میں جب قیدیوں کی گنتی کی گئی تو اس میں یہ دونوں غیر حاضر تھے اس کے علاوہ جیل کی دیوار، جنگلہ، دروازہ یا روشندان وغیرہ کہیں سے ٹوٹا ہوا نہیں ہے ۔

ڈی آئی جی کوئٹہ رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ کینٹ تھانے میں مقدمہ درج کرکے جیل کے عملے کے تیرہ اہکاروں کو تفتیش میں شامل کر لیا گیا ہے ۔ شفیق الرحمان رند کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی تھی جبکہ عثمان سیف اللہ کرد کا مقدمہ ابھی عدالت میں تھا۔ عثمان سیف اللہ کو جون دو ہزار چھ میں گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتاری پر بیس لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔

یہاں مبصرین کا کہنا ہے کہ راولپنڈی میں راشد رؤف کے فرار کے بعد ان قیدیوں کا فرار ایک بڑا واقعہ ہے اور کوئٹہ کی اس جیل سے کسی قیدی کا فرار مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔

پولیس کے مطابق اس واقعہ کے بعد محرم الحرام کے حوالے سے شہر میں حفاظتی انتظامات مذید سخت کر دیے گئے ہیں۔

پولیس نے بتایا ہے کہ صوبہ بھر میں اور خاص طور پر کوئٹہ میں فرقہ وارانہ حملوں میں عثمان سیف اللہ اور شفیق الرحمان اہم کردار رہے ہیں اور انہیں ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے۔ کوئٹہ میں فرقہ وارانہ حملوں کے بڑے واقعات میں آٹھ جون دو ہزار تین کو سریاب روڈ پر شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے پولیس جوانوں پر حملہ، چار جولائی دو ہزار تین کو ایک امام بارگاہ پر حملہ اور دو مارچ دوہزار چار کو لیاقت بازار میں عاشورہ کے جلوس پر حملہ شامل ہیں۔ ان تینوں واقعات میں لگ بھگ ایک سو پندرہ افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ آج خضدار جیل کے سپرنٹنڈنٹ شیر زمان ترین ڈرائیور کے ہمراہ مرکزی مسجد سے جمعہ نماز پڑھ کر واپس آ رہے تھے کہ بڑے پل کے قریب موٹر سائیکل پر سوار افراد نے ان پر فائرنگ کر دی ہے۔

خضدار جیل سے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ اس حملے میں ڈرائیور محفوظ رہے ہیں جبکہ سپرنٹنڈنٹ جیل شیر زمان ترین کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ان کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں
بلوچستان میں اب امن ہے: مشرف
05 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد