عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ |  |
 | | | پرویز مشرف گزشتہ روز کوئٹہ پہنچے تو نا ملعوم افراد نے فرنٹیئر کور اور پولیس کی مشترکہ چوکی پر حملہ کرکے ایف سی کے ایک اہلکار کو ہلاک کردیا تھا |
صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں 54 فراری کیمپ تھے لیکن اب صرف چند گنے چنے واقعات کے علاوہ صوبے میں مکمل امن قائم ہے۔ کوئٹہ چھاونی میں کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں زیرِ تربیت افسران اور دیگر حاضرین سے اپنے الوداعی خطاب میں صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ لیکن فوج اور فرنٹیئر کور نے ان کیمپوں کےخاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صدر مشرف نے کہا ہے کہ انھیں پاکستان فوج پر فخر ہے جس نے نہ صرف ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی ہے بلکہ ملک کی ترقی امن و امان کی بحالی اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے خطرہ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سوات میں فوج نے امن قائم کر دیا ہے اور اس کے علاوہ شدت پسندوں کے گڑھ مٹہ اور خوازہ خیلہ کو اب محفوظ بنا دیا ہے۔ صدر پرویز مشرف گزشتہ روز کوئٹہ پہنچے تو نا ملعوم افراد نے فرنٹیئر کور اور پولیس کی مشترکہ چوکی پر حملہ کرکے ایف سی کے ایک اہلکار کو ہلاک کردیا تھا۔ تربت میں بھی سیکیورٹی فورسز اور مسلح مزاحمت کاروں کے مابین جھڑپ میں ایف سی کے تین اہلکار زخمی ہو گئے تھے جبکہ ایک مزاحمت کار ہلاک ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے پنجگور میں نا معلوم افراد نے ایف سی کے اہلکاروں پر حملہ کیا تھا جس میں کم سے کم تین اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے تھے۔ بالاچ مری کی ہلاکت کی خبر کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بجلی کے کھمبوں اور ریل کی پٹڑیوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا تھا۔ صدر پرویز مشرف نے بدھ کو گورنر ہاؤس کوئٹہ میں نگراں حکومت میں شامل وزراء سے بھی ملاقات کی ہے اور کہا ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر پرامن ماحول میں ہوں گے جس سے ملک مضبوط ہوگا۔ صدر نے نگراں کابینہ سے کہا کہ وہ آزاد اور شفاف انتخابات منعقد کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ |