غنی کے دور اقتدار سے بلوچ رہنما ناخوش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے گورنر علی محمد جان اورکزئی کے مستعفی ہونے کے بعد یہ ذمہ داری بلوچستان کے گورنر اویس احمد غنی کے سپرد کیے جانے کی اطلاعات ہیں جن کا بلوچستان میں دور اقتدار کافی متنازعہ رہا ہے۔ صوبے میں سیاسی قائدین کے مطابق گورنر اویس احمد غنی کے دور میں بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا جو ان کےبقول اب بھی جاری ہے۔ بلوچستان میں بیشتر سیاسی جماعتوں نے صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے اویس احمد غنی کو گورنر بنائے جانے کی مخالفت کی تھی ۔اویس احمد غنی تقریباً پانچ سال بلوچستان کے گورنر رہے۔ اویس غنی کی عمر چھپن برس ہے اور وہ گیارہ اگست دو ہزار تین کو گورنر بلوچستان مقرر کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے وہ سن دو ہزار دو میں وفاقی وزیر اور انیس سو ننانوے سے دو ہزار دو تک صوبائی وزیر رہے ہیں۔ اویس احمد غنی نے سیاست کا آغاز تحریک پاکستان سے کیا تھا لیکن جلد ہی اس جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اویس احمد غنی کی جگہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امان اللہ یاسین زئی پیر کو قائم مقام گورنر کا حلف اٹھائیں گے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اویس احمد غنی کی سرحد منتقلی پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ وہ بلوچستان کے باہر سے گورنر بھیجے جانے کے خلاف تھے اور اب بھی اس موقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے صوبے میں ترقی کے حوالے سے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ’ میں اس وقت گوادر میں ہوں جس کے بارے میں بڑے دعوے کیے گئے کہ یہاں ایک سو تیس ارب روپے کے منصوبے شروع کیے گئے لیکن آج بھی یہاں مٹی اڑ رہی ہے۔ صرف زمینوں کی بندر بانٹ کی گئی ہے‘۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ کے مطابق ان کی جماعت صدر پرویز مشرف کے ہر فیصلے کی مذمت کرتی ہے اور جہاں تک گورنر اویس احمد غنی کی بات ہے تو ان کے دور میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں کوئی شخص اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا اور اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اویس احمد غنی کے دور میں بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا جو اب بھی جاری ہے اور اسی آڑ میں بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور سابق صوبائی وزیر حافظ حمداللہ کے مطابق مخلوط حکومت کے ساتھ گورنر بلوچستان کا پانچ سالہ دور مثبت رہا ہے۔ ’ جہاں تک بلوچستان میں فوجی کارروائی کی بات ہے تو یہ مرکز کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے گورنر کا کام نہیں ہوتا۔ اس کی مثال سابق گورنر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر ہیں جنہوں نے انکار کیا تو انھیں ہٹا دیا گیا تھا‘۔ اویس احمد غنی نے کئی مرتبہ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کو پسماندہ رکھنے میں تمام سیاسی جماعتوں کا قصور ہے جو عرصے تک صوبے میں اقتدار میں رہ چکی ہیں۔ |
اسی بارے میں فوج آخری آپشن ہے: گورنر سرحد02 November, 2007 | پاکستان گورنر مغویوں کی رہائی کیلیے پرامید17 August, 2007 | پاکستان امن معاہدے کی خلاف ورزی: گورنر07 July, 2007 | پاکستان گورنر سرحد نے جرمانہ معاف کردیا23 January, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||