BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 January, 2008, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب: نئے چیف جسٹس کا حلف

جسٹس سید زاہد حسین
جسٹس زاہد حسین نے وکالت کا آغاز جسٹس خلیل الرحمانٰ کے دورِ وکالت میں ان کے چیمبر سے کیا
جسٹس سید زاہد حسین نے لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) خالد مقبول نے ان سے حلف لیا۔

دوسری جانب پنجاب بار کونسل کے فیصلے کی روشنی میں لاہور ہائی کورٹ کے سبکدوش ہونیوالے چیف جسٹس افتخار حسین چودھری کی ریٹائرمنٹ پر ’یوم نجات‘ منایا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب پر نئے چیف جسٹس کا تقرر سوا پانچ سال بعد عمل میں لایا گیا ہے۔

جسٹس افتخار حسین چودھری اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار سات کو باسٹھ برس کے ہونے پر اپنے عہدے سے ریٹائر ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل جسٹس (ر) ملک محمد قیوم نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی اسامیاں خالی ہیں لیکن جسٹس افتخار حسین چودھری سپریم کورٹ میں بطور جج تقرری نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ جسٹس افتخار حسین چودھری سے ان کے کوئی اختلافات ہیں۔

نواز شریف دور میں تقرری
 جسٹس سید زاہد حسین اکیس مئی انیس سو اٹھانوے میں نواز شریف کے دور حکومت میں لاہور ہائی کورٹ کے جج بنائے گئے تھے اور وہ چودہ دسمبر سنہ دو ہزار گیارہ کو باسٹھ برس کے ہونے پر ریٹائر ہونگے

جسٹس سید زاہد حسین اکیس مئی انیس سو اٹھانوے میں نواز شریف کے دور حکومت میں لاہور ہائی کورٹ کے جج بنائے گئے تھے اور وہ چودہ دسمبر سنہ دو ہزار گیارہ کو باسٹھ برس کے ہونے پر ریٹائر ہونگے۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں۔

جسٹس زاہد حسین نے وکالت کا آغاز ایڈووکیٹ خلیل الرحمنٰ خان کے چیمبرز کیا۔ خلیل الرحمنٰ خان لاہور ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے جج بھی رہے۔ خلیل الرحمنٰ خان کے جج بننے پر (جسٹس) زاہد حسین نے نامور قانون دان سینیٹر ایس ایم ظفر کے چیمبر میں شمولیت اختیار کر لی۔

جسٹس زاہد حسین سابق وزیر قانون سینیٹر ایس ایم ظفر کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس افتخار حسین چودھری کی ریٹائرمنٹ ایک خوش آئندہ بات ہے۔ ان کے بقول سابق چیف جسٹس افتخار حسین چودھری نے عدلیہ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب تک عدلیہ کو بحال نہیں کیا جاتا اس وقت تک عدلیہ میں تقرریوں اور تبادلوں کا نہ تو خیر مقدم کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں قبول کیا جائے گا۔

جسٹس افتخار حسین چودھری قیام پاکستان کے بعد دوسرے چیف جسٹس ہیں جو پانچ سال سے زائد مدت تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔ ان سے قبل جسٹس منیر احمد طویل ترین مدت کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے۔

طویل المدت چیف جسٹس
 جسٹس افتخار حسین چودھری قیام پاکستان کے بعد دوسرے چیف جسٹس ہیں جو پانچ سال سے زائد مدت تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔ ان سے قبل جسٹس منیر احمد طویل ترین مدت کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے

جسٹس افتخار حسین چودھری جو سابق گورنر پنجاب مرحوم چودھری الطاف حسین اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی کابینہ میں وزیر چودھری شہباز کے بھائی ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں ان کا تقرر بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں سات اگست انیس سو چورانوے میں ہوا تھا۔ انہیں چھ ستمبر سنہ دو ہزار دو کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔

ان کی تقرری کے دوران سنیارٹی کے اصول کے تحت ان کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کرنے کی بجائے ان سے جونیئر چار ججوں کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا اور اس طرح وہ ریٹائرمنٹ تک چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے منصب پر فائز رہے۔

اسی بارے میں
فیڈرل کورٹ کے خلاف حکم معطل
24 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد