ہائی کورٹوں میں نئے جج تعینات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے جمعہ کے روز سندھ اور لاہور ہائی کورٹ میں مزید سترہ ججوں کی تعیناتی کے آرڈر جاری کیے ہیں ان میں آٹھ ججز اس سے پہلے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدے پر فائض رہ چکے تھے۔ نگران وزیر قانون سید افضل حیدر نے بی بی سی کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر کی طرف سے اس کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ جمعہ کے روز جن ججوں کو تعینات کیا گیا ہے ان میں لاہور ہائی کورٹ میں نو اور سندھ ہائی کورٹ میں آٹھ جج شامل ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں جن ججوں کو تعینات کیا گیا ہے ان میں پنجاب کے ڈپٹی اٹارنی جنرل ظفر اقبال چودھری ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خورشید انور بھنڈر، سید علی حسن وضوی، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن گجرات، مظہر حسین منہاس، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوجرانوالہ، سیف الرحمن، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اوکاڑہ، خواجہ فاروق سعید، چیئرمین انکم ٹیکس ایپلٹ ٹربیونل، صغیر احمد سٹینڈ نگ کونسل ملتان، ضبط الحسن حسین اور محمد اکرم قریشی شامل ہیں۔ واضح رہے لاہور ہائی کورٹ میں تعینات ہونے والے خورشید انور بھنڈر پاکستان مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والے سنیٹر انور بھنڈر کے صاحبزادے ہیں۔ سندہ ہائی کورٹ میں آٹھ ججوں کو تعینات کیا گیا ہے ان میں پانچ جج صاحبان اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدے پر فائض رہ چکے ہیں۔ان میں آغا رفیق احمد، سید پیر علی شاہ، بنیامین ، ارشد نور خان اور قمرالدین شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا وہ اب جج نہیں رہے ان کو ریٹائرمنٹ کی تمام مراعات دینے کہ لیے قانون سازی کی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سید افضل حیدر نے کہا کہ سنیچر کو ملک سے ایمرجنسی اٹھالی جائے گی اور ضمن میں کچھ آرڈینینس بھی لائے جائیں گے تاہم انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔ واضح رہے کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے تین نومبر کو ایک آرڈر جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پی سی او کے تحت اعلی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی غیر قانونی ہوگی۔ اس آرڈر کو پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے منسوخ کردیا تھا۔ اس سے پہلے جمعرات کے روز وفاقی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ میں چھ نئے ججوں کی تعیناتی کا اعلامیہ جاری کیا تھا۔ نئے ججوں میں جسٹس شاہ جی رحمان ، جسٹس غلام محی الدین ، جسٹس سید یحیٰ زاہد گیلانی ، جسٹس ضیاء الدین خٹک ، جسٹس مصدق حسین گیلانی اور جسٹس محمد عالم شامل ہیں ۔ پشاور سے ہمارے نامہ نگار انتخاب امیر کے مطابق جسٹس محمد عالم پشاور ہائی کورٹ میں جج تعینات ہونے سے پہلے وکالت کے شعبے سے وابستہ تھے جبکہ بقیہ پانچ دیگر جج صاحبان کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدوں سے ترقی دے کر پشاور ہائی کورٹ لیجایا گیا ہے ۔ پشاور ہائی کورٹ میں بطورِ جج حلف اُٹھانے سے پہلے جسٹس مصدق حسین گیلانی پشاور ہائی کورٹ ہی میں بطورِ رجسٹرار فرائض سرانجام دے رہے تھے ۔ نئے تعینات کیے گئے جج اپنی نئی ذمہ داری کا حلف ایک ایسے وقت میں عبوری آئینی حکمنامے کے تحت اُٹھا رہے ہیں جب صدر مشرف کے اعلان کے مطابق آئین پندرہ دسمبر کو بحال کردیا جائے گا۔ چھ نئے ججوں کی تعیناتی کے بعد پشاور ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد تیرہ ہوگئی ہے ۔ عبوری آئینی حکمنامے کے اجراء سے پہلے بھی پشاور ہائی کورٹ میں تیرہ جج کام کررہے تھے جبکہ دو ججوں کی دو نشستیں خالی پڑی ہوئی تھیں۔ | اسی بارے میں بھرتی کی عمر 45 کی بجائے 40 سال12 December, 2007 | پاکستان برطرف ججز کی حمایت سے انکار13 December, 2007 | پاکستان ’پی سی او کے باغی‘ جج نظربند08 December, 2007 | پاکستان ’ججوں کی باعزت برخاستگی ہو‘07 December, 2007 | پاکستان حلف نہ لینے والے جج ریٹائر 04 December, 2007 | پاکستان پی سی او ججوں کا بائیکاٹ05 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||