بھرتی کی عمر 45 کی بجائے 40 سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے ہائی کورٹ کے ججوں کی بھرتی کی عمر کی حد پنتالیس سال سے کم کرکے چالیس سال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے بدھ کو صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتائی اور کہا کہ اس بارے میں جلد ہی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ پندرہ دسمبر کو آئین بحال کردیا جائے گا اور ایمرجنسی ہٹالی جائے گی۔ ججوں کی بھرتی کی عمر کی حد میں کمی کی وجہ کے بارے میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ قابل لوگ آگے آئیں اور عدالتی امور احسن طریقے سے چلائیں۔ ججوں کی عمر کی حد میں کمی کے بارے میں وکلاء تنظیموں کے نمائندے کہتے ہیں کہ تین نومبر کو آئین معطل کرکے ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد متعدد ججوں نے ’پی سی او‘ کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کردیا ہے اور وکلاء کی تحریک کی وجہ سے حکومت کو جج نہیں مل رہے اس لیے انہوں نے عمر کی حد میں کمی کی ہے۔ اٹارنی جنرل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا یا جن ججوں کو برطرف کیا گیا ہے ان کو ریٹائرمنٹ کے تمام فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کو مراعات کے بارے میں قانون سازی کی جا رہی ہے اور اس کا اعلان بھی ملک سے ایمرجنسی اٹھانے اور آئین کی بحالی کے موقع پر کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ملک قیوم نے کہا کہ ملک میں آئین کی بحالی سے قبل چند ترامیم ہوں گی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ان ترامیم میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو برطرف کرنے کے بارے میں کوئی ترمیم شامل نہیں ہوگی۔ انہوں نے چیف جسٹس کی برطرفی کا اختیار صدر کو دینے کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ان ججوں کی برطرفی کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہے۔ | اسی بارے میں ریفرنس: ذمہ داری وزیراعظم کی؟08 June, 2007 | پاکستان ’پہلے جیسے اچھے تعلقات رہیں گے‘31 July, 2007 | پاکستان ڈِیل کی سیاست کے خاتمے کی اپیل31 July, 2007 | پاکستان مبینہ ڈِیل، پی پی کے وکلاء کا امتحان02 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||