BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 December, 2007, 08:27 GMT 13:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیڈرل کورٹ کے خلاف حکم معطل

سپریم کورٹ
فیڈرل ہائیکورٹ کا قیام حالیہ آئینی ترامیم کے تحت کیا جا رہا ہے
سپریم کورٹ کے ایک چار رکنی بینچ نے اسلام آباد میں فیڈرل ہائی کورٹ کے قیام کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کو معطل کر دیا ہے۔

پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس نواز عباسی، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس اعجاز یوسف پر مشتمل بینچ نے یہ کارروائی لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف حکومتی اپیل پر کی ہے۔

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے لاہور ہائی کورٹ سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرنے کے حکم کے ساتھ کارروائی سات جنوری تک ملتوی کر دی۔

لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فیڈرل ہائی کورٹ کے قیام کے خلاف حکم امتناعی 17 دسمبر کو جاری کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے فل بنچ نے یہ حکم ایک وکیل حسن نواز کی جانب سے آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت دائر درخواست پر دیا تھا، جس میں فیڈرل ہائی کورٹ کے قیام کو چیلنج کیا گیا تھا۔

آئین سے متصادم
 فیڈرل ہائی کورٹ کا قیام پی سی او کے تحت ترامیم کر کے عمل میں لایا جا رہا ہے جو نہ صرف آئین سے متصادم بلکہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی نفی کرتا ہے
ایڈووکیٹ حسن نواز

فیڈرل ہائی کورٹ کا قیام حال ہی میں کی گئی آئینی ترامیم کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے فیڈرل ہائی کورٹ کے قیام کے خلاف درخواست میں اٹھائے گئے اہم نکات پر ممتاز ماہرین قانون سے معاونت طلب کرلی اور ایس ایم ظفر، وسیم سجاد، ڈاکٹر خالد رانجھا، مجیب الرحمٰن اور احمر بلال صوفی کو بطور عدالتی معاون نو جنوری کو معاونت کے لیے طلب کیا تھا۔

حکم امتناعی جاری کرنے والا لاہور ہائی کورٹ کا سہ رکنی فل بنچ مسٹرجسٹس سید شبر رضا رضوی، مسٹر جسٹس طارق شمیم اور مسٹر جسٹس حسنات احمد خان پر مشتمل تھا۔

درخواست گزار نے دلائل میں کہا تھا کہ فیڈرل ہائی کورٹ کا قیام آئین کے منافی ہے ۔ ان کے بقول فیڈرل ہائی کورٹ کا قیام پی سی او کے تحت ترامیم کر کے عمل میں لایا جا رہا ہے جو نہ صرف آئین سے متصادم بلکہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی نفی کرتا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نےدلائل میں کہا کہ فیڈرل ہائی کورٹ کے قیام کے لیے آئین میں کی جانے والی ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے مترادف ہیں۔

وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید افتخار شاہ اور قمرالزمان قریشی نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ 23 نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کو جائز قرار دے چکی ہے۔

اسی بارے میں
آئین میں ترامیم کا موسم
17 December, 2007 | پاکستان
’مجرم بھی صدر بن سکتا ہے‘
15 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد