فیڈرل ہائی کورٹ، حکم امتناعی جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فیڈرل ہائی کورٹ کے قیام کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا ہے۔ ہائی کورٹ کے فل بنچ نے یہ حکم مقامی وکیل حسن نواز کی جانب سے آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت دائر درخواست پر دیا جس میں فیڈرل ہائی کورٹ کے قیام کو چیلنج کیا گیا ہے۔ فیڈرل ہائی کورٹ کا قیام حال میں آئین میں کی جانے والی ترامیم کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے۔ فل بنچ نے فیڈرل ہائی کورٹ کے قیام کے خلاف درخواست میں اٹھائے گئے اہم نکات پر ممتاز ماہرین قانون سے معاونت طلب کرلی اور ایس ایم ظفر، وسیم سجاد، ڈاکٹر خالد رانجھا، مجیب الرحمن اور احمر بلال صوفی کو بطور عدالتی معاون نو جنوری کو معاونت کے لیے بلایا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کا سہ رکنی فل بنچ مسٹرجسٹس سید شبر رضا رضوی، مسٹر جسٹس طارق شمیم اور مسٹر جسٹس حسنات احمد خان پر مشتمل ہے۔ فل بنچ نے درخواست پر سماعت کے بعد قرار دیا کہ درخواست گزار نے آئین کی مختلف دفعات کی تشریح کے حوالے سے مختلف نکات اٹھائے ہیں۔ درخواست گزار وکیل حسن نواز نے دلائل میں کہا کہ فیڈرل ہائی کورٹ کا قیام آئین کے منافی ہے ۔ ان کے بقول فیڈرل ہائی کورٹ کا قیام پی سی او کے تحت ترامیم کرکے عمل میں لایا جارہا ہے جو نہ صرف آئین سے متصادم اور اعلیْ عدلیہ کے فیصلوں کی نفی کرتا ہے۔ درخواست گزار وکیل نےدلائل میں کہا کہ فیڈرل ہائی کورٹ کے قیام کے لیے آئین میں کی جانے والی ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید افتخار شاہ اور قمرالزمان قریشی نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ 23 نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کو جائز قرار دے چکی ہے۔ فل بنچ نےطرفین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیڈرل ہائی کورٹ کے قیام کے خلاف امتناعی جاری کردیا۔ | اسی بارے میں آئین میں ترامیم کے چار آرڈیننس14 December, 2007 | پاکستان بھرتی کی عمر 45 کی بجائے 40 سال12 December, 2007 | پاکستان صوبوں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ06 December, 2007 | پاکستان فوج قومی نہیں قابض ہے: وکلاء22 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||