عزیز اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ |  |
 | | | قوم پرست ہتھیار بند صوبائی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں |
بلوچستان کےعلاقہ ڈیرہ بگٹی میں سوئی کے قریب نا معلوم افراد نے راکٹ اور خوکار ہتھیاروں سے فائرنگ کر کے ایک وڈیرہ اور ایک سابق کمانڈر سمیت چار افراد کو ہلاک اور تین کو زخمی کر دیا ہے۔ یہ واقعہ سوئی سے کوئی تین کلومیٹر دور ایک دیہات کے قریب پیش آیا ہے جہاں وڈیرہ وزیر نوہتانی بگٹی اور سابق کمانڈر در محمد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گاڑی میں جا رہے تھے کہ راستے میں نا معلوم افراد نے ان پر راکٹ داغے اور پھر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی ہے۔ پولیس اہلکاروں کےمطابق اس واقعے میں چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں ہلاک ہونے والوں میں وزیر نوہتانی اور در محمد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ بگٹی شہر کے قریب نا معلوم افراد نے ایک سرکاری بلڈوزر کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش کی ہے جس سے بلڈوزر کو نقصان پہنچا ہے۔ خود کو بلوچ لبریش آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نےنامعلوم مقام سے ٹیلیفون کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سرباز بلوچ نے کہا ہے کہ صبح کے وقت سیکیورٹی فورسز کے اہلکار کھوجی کتے کے ہمراہ ان کے تعاقب میں آئے تھے جہاں فائرنگ کے بعد سیکورٹی فورسز کے چھ اہلکار زخمی ہوئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس دعوےٰ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ڈیرہ بگٹی میں عید کے پہلے روز نا معلوم افراد نے تین گیس پائپ لائنوں کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا جبکہ بولان اور نصیر آباد کے علاقوں میں بجلی کے کھمبوں پر حملے کیے گئے تھے۔
|