BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 December, 2007, 14:03 GMT 19:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج کے دور میں ملک کو نقصان ہوا‘

بینظیر بھٹو
’انتخابات میں ناظمین کی مداخلت کے حوالے سے بھی مسائل درپیش ہیں‘
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ فوجی حکمرانوں کے دور میں ملک کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ملک اس وقت مضبوط ہوگا جب عوام کی حکومت قائم ہوگی۔

بینظیر بھٹو اپنی جماعت کی انتخابی مہم کے حوالے سے قریباً بارہ سال بعد کوئٹہ پہنچیں اور کوئٹہ کے ہاکی گراؤنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں دو قوتوں کا آپس میں ٹکراؤ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف سیاسی جماعتیں ہیں اور دوسری جانب فوجی حکمران ہیں۔ پاکستان میں عوام کی منتخب حکومتوں کو موقع نہیں دیا گیا اور فوج کے دور میں ملک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بینظیر نے کہا کہ ’پہلے بنگلہ دیش علیحدہ ہوا، پھر ضیاءالحق کے دور میں سیاچن گلیشیئر گیا اور اب پرویز مشرف کے دور میںں بلوچستان اور وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے جس سے ملک سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں‘۔

بینظیر کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت پاکستان کو بچانے اپنے لوگوں کے پاس آئی ہیں۔ اس سے قبل کوئٹہ آمد کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بینظیر نے ایمرجنسی اٹھائے جانے کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ آزاد اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ابھی مزید بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج میں ردو بدل کے خدشات موجود ہیں اور انتخابات میں ناظمین کی مداخلت کے حوالے سے بھی مسائل درپیش ہیں۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ انہیں کئی مقامات سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو فوج کی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب غلط ہے اور انہیں امید ہے کہ صدر پرویز مشرف انتخابات کے حوالے سے مداخلت بند کرا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کئی علاقوں میں سرکاری افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں اور پیپلز پارٹی کے جیتنے والے امیدوار اکبر لاسی وغیرہ کو انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا۔ان سے جب پوچھا گیا کہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھی بلوچستان میں فوجی آپریشن کیا گیا تھا تو انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے۔

بینظیر بھٹو کے دورے کے حوالے سے کوئٹہ میں سخت حفاظتی انتطامات کیے گئے ہیں جس سے عام شہریوں کو سختت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شہر میں بدترین ٹریفک جام دیکھا گیا ہے۔ حکام نے بینظیر بھٹو کے مقررہ روٹ کے علاوہ شہر میں ایسی سڑکیں بھی آمدورفت کے لیے بند کی ہیں جہاں سے بینظیر بھٹو کے قافلے نے نہیں گزرنا تھا۔

اسی بارے میں
قاف لیگ پر دھاندلی کا الزام
11 December, 2007 | پاکستان
بینظیر کی سکیورٹی پر تشویش
14 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد