کوئٹہ: امیدواروں کے کاغذات واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے قائدین کے مطابق ان کے تین امیدواروں نے جمعہ کو اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں اور کل بائیکاٹ کرنے والی تمام جماعتوں کے امیدوار اپنے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لیں گے۔ اس کے علاوہ بائیکاٹ کے حوالے سے احتجاجی تحریک بھی شروع کر دی گئی ہے۔ بلوچستان کی سطح پر انتخابات کے بائیکاٹ کے حوالے سے جمعہ کو سیاسی جماعتوں کے اجلاس منعقد ہو رہے ہیں جس میں ان جماعتوں کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی واپس لینے کے حوالے سے حتمی اعلان کیے جائیں گے۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا ہے بلوچستان میں ان کی جماعت کے سات قومی اسمبلی اور اکیس صوبائی اسمبلی کے امیدوار کل اپنے اپنے کاغذات واپس لے لیں گے۔ انھوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو انسٹھ کوئٹہ سے نواب ایاز جوگیزئی صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی دو کوئٹہ سے قہار ودان اور قومی اسمبلی کے حلقہ دو سو باسٹھ سبی ہرنائی سے احمد جان نے اپنے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں ۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ حاصل بزنجو نے بتایا ہے کہ پونم میں شامل تمام جماعتوں کا موقف ایک ہی ہے اور ان کے امیدوار بھی کاغذات نامزدگی واپس لیں گے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے قائدین سنیچر اور اتوار کے روز کوئٹہ پہنچ رہے ہیں ۔ بلوچستان نینشل پارٹی کے رہنما ولی کاکڑ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کا اجلاس جاری ہے جس میں بائیکاٹ کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ادھر بلوچستان بار کونسل کے سابق نائب چئرمین علی احمد کرد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ انہوں جیل حکام سے سے رابطہ کیا ہے کہ کل انہیں ریٹرننگ آفسر کے کے پاس لے جائیں تاکہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں۔ اس کے علاوہ اے پی ڈی ایم کی سطح پر بلوچستان بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقاتیں کی ہیں اور اس بات پر اصولی فیصلہ کیا گیا ہے کہ انتخابات کے حوالے سے احتجاجی تحریک شروع کی جائے۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے قائدین کے مطابق انہوں نے انتحابات سے بائیکاٹ کے حوالے سے احتجاجی تحریک شروع کر دی ہے جس میں عوام سے ووٹ نہ ڈالنے کی اپیل کی جائے گی۔ وکلاء بھی کاغذات نامزدگی واپس لیں گے اس بات کا اعلان سپریم کورٹ بار کے عہدیدار میاں امین جاوید، غلام بنی بھٹی، پاکستان بار کونسل کے رکن رمضان چودھری، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین طارق جاوید وڑائچ اور لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق صدر احمد اویس نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نظربند صدر اور پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن پہلے ہی اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے کا اعلان کرچکے ہیں۔ وکلا رہنماؤں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کی موجودگی میں آزاد اور منصفانہ انتخابات مکمن نہیں ہیں اس لیے وکلاء تنظیموں نے عام انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ آٹھ جنوری کے انتخابات میں کاغذات نامزدگی پندرہ دسمبر کو واپس لیے جاسکتے ہیں۔ ایک سوال پر سپریم کورٹ بار کےسیکرٹری امین جاوید نے کہا کہ جو وکلا کاغذات واپس نہیں لیں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کے بقول ایمرجنسی کے خاتمے اور آئین کی بحالی کےساتھ ہی وہ جج جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا اپنے عہدوں پر بحال ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ان ججوں کو کام نہ کرنے دیا تو پھر ’جوڈیشل بس‘ چلے گی۔ وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جو سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں وہ حالات کے پیش نظر انتخابات سے قبل بائیکاٹ کا اعلان کردیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انتخابات کے بعد دھاندلی کو بنیاد بنا کر جو سیاسی جماعت تحریک چلائے گی ہم اس کے ساتھ نہیں ہونگے۔ طارق جاوید وڑائچ نے بینظیر بھٹو کے عدلیہ کے بارے بیان پر کہا کہ یہ بینظیر بھٹو کی ذاتی رائے ہے جبکہ وکلاء کا موقف اس کے برعکس ہے۔ پریس کانفرنس میں پاکستان بارکونسل کے رکن رمضان چودھری نے کہا کہ ان کو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقے کے لیے نامزد کیا گیا۔ ان کے بقول انہوں نے اپنی جماعت کی قیادت سے معذرت کرلی ہے۔ | اسی بارے میں اعتزاز انتخابات سے دستبردار12 December, 2007 | پاکستان انتخابات سے دور رہیں: قاضی 12 December, 2007 | پاکستان شہباز شریف کی جگہ حمزہ شریف13 December, 2007 | پاکستان انتخابات کی صورت میں بار سے چھٹی 13 December, 2007 | پاکستان جوڈیشل بس تیار: سپریم کورٹ بار13 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||