BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 December, 2007, 14:59 GMT 19:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان اسمبلی قید خانےمیں تبدیل

بلوچستان اسمبلی(فائل فوٹو)
اسمبلی تحلیل ہونے سے پہلے ہی اس میں لوگوں کو بند کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی عمارت ان دنوں صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے لیے ایک قید خانے میں تبدیل ہوچکی ہے۔

ملک میں تین نومبر کو لگنے والی ایمر جنسی کے بعد اس عمارت کو فرنٹیئر کور نے اپنے قبضے میں لے کر نہ صرف میڈیا کی آزادی کے لیے جدوجہد میں مصروف صحافیوں کو یہاں قید کیا بلکہ ملک میں آئین اور عدلیہ کی بحالی اور ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنوں کو بھی گرفتاری کے بعد یہاں لاکر قید کیا جاتا ہے ۔

صوبائی دار الحکومت کوئٹہ کے زرغون روڈ پر بلوچستان ہائی کورٹ کی عمارت کے سامنے بلوچستان اسمبلی کی عمارت واقع ہے جو تاحال فرنٹیئر کور کے قبضے میں ہے۔ بلوچستان اسمبلی اٹھارہ اور انیس نومبر کی درمیانی شب کو تحلیل کی گئی تھی لیکن فرنٹیئر کور نے اس سے پہلے ہی اسمبلی کی عمارت کو تحویل میں لے لیا تھا۔

مکمل قبضہ
 فرنٹیئر کور کے حکام نے بلوچستان اسمبلی عمارت میں موجود حزب اختلاف کے چیمبر میں کنٹرول روم بنایاہے۔ ہر صبح کوئٹہ شہر اور صوبے کے دوسرے علاقوں کے لیے فورسز روانہ کی جاتی ہے اور رات کو اس عمارت کے ایڈمن بلاک میں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے قیام و طعام کا بھی انتظام کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اسمبلی کے ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اسمبلی میں داخلے کے لیے ان کی خصوصی تلاشی اور پوچھ گچھ کے بعد عمارت میں جانے کی اجازت ملتی ہے۔
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد فرنٹیئر کور کے اہلکار نہ صرف اسمبلی کی عمارت پر قابض رہے بلکہ انہوں نے ملک میں ایمر جنسی کے خلاف اور میڈیا کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے کئی صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو اسمبلی ہال کے نیچے واقع تہہ خانوں میں بند کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

حال ہی میں کوئٹہ کے مختلف مقامات سے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہونے والے مشکوک افراد کو بھی بلوچستان اسمبلی کی عمارت میں قید رکھا جارہا ہے۔ کوئٹہ شہر میں سمگل کیے گئے سینکڑوں ایرانی موٹر سائیکلوں کو بھی پکڑنے کے بعد یہاں لایا جارہا ہے۔

فرنٹیئر کور کے حکام نے بلوچستان اسمبلی عمارت میں موجود حزب اختلاف کے چیمبر میں کنٹرول روم بنایاہے۔ ہر صبح کوئٹہ شہر اور صوبے کے دوسرے علاقوں کے لیے فورسز روانہ کی جاتی ہے اور رات کو اس عمارت کے ایڈمن بلاک میں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے قیام و طعام کا بھی انتظام کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اسمبلی کے ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اسمبلی میں داخلے کے لیے ان کی خصوصی تلاشی اور پوچھ گچھ کے بعد عمارت میں جانے کی اجازت ملتی ہے۔

ابھی تک بلوچستان کی کسی بھی سیاسی جماعت نے بلوچستان اسمبلی کی عمارت پر فرنٹیئر کور کے قبضے کے بارے میں کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں
’پیرول نہیں بحالی جمہوریت‘
23 December, 2006 | پاکستان
بلوچستان اسمبلی کے پانچ سال
17 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد