بینظیر: اچانک پشاور آمد و خطاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ اگر آئندہ انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے پیپلز پارٹی کا راستہ روکا گیا تو اسے مبینہ انتہا پسندوں کو ترجیح دینے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ یہ بات سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے تقریباً نو سال بعد پشاور کے دورے کے موقع پر کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کے دورا ن کہی۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے انتخابات میں دھاندلی کرنے کے حوالے سے اپنی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ انکے مطابق ’اگر کوئی دھاندلی کرے گا تو وہ پیپلز پارٹی کو نہیں روکے گا بلکہ وہ مبینہ انتہاپسندوں کو ترجیح دے گا۔اگر کوئی دھاندلی کرے گا تو وہ پاکستان کے وجود کو خطرے میں ڈالے گا۔‘ بے نظیر بھٹو نے الزام لگایا کہ ہر ریٹرننگ آفسر کوحکم دیاگیا ہے کہ اسے جب بیلٹ پیپر ملیں تو وہ ان میں سے بیس ہزار ووٹ نکال کر بقول انکے ’ سیاسی یتیموں‘ کو دے دے۔ ان کے بقول انہیں معلوم ہوا ہے کہ ریٹرننگ افسروں کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’ہرحکومت یافتہ صوبائی امیدوار کو دس سے بارہ ہزار ووٹ دیئے جائیں۔‘ بینظیر بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے سازش کو ناکام بنائیں اور ان تمام سیشن ججوں کو واپس بلایا جائے جنہیں تبدیل کردیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی اداروں میں پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ افسران موجود ہیں جو انہیں ہونے والی ہر مبینہ سازش سے آگاہ کر رہے ہیں۔ خطاب کے دوران بینظیر بھٹو نے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں بڑھتی ہوئی طالبانائزیشن اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا سرسری ذکر کیا اور انہوں نے ان علاقوں میں مبینہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے انتخابات میں کامیابی کی صورت میں کسی قسم کی ٹھوس حکمت عملی بنانے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ جب پنڈال میں آئیں تو کارکنوں نے پرجوش انداز میں ’وزیراعظم بینظیر‘ کے نعرے لگا کر ان کا استقبال کیا تاہم سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر کار کنوں اور ان کے درمیان براہ راست رابطہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ انیس سو اٹھانوے کے بعد پشاور آمد کے موقع پر بینظیر بھٹو کو اپنے کارکنوں سے خطاب کرنےکے لیے جلسہ عام کرنے کی بجائے پارٹی کے ضلعی صدر سید ظاہر شاہ کی رہائش گاہ پر سینکڑوں کارکنوں کے ایک اجتماع پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ بینظیر بھٹو جہاں بھی اپنی بلٹ پروف گاڑی سے اُتریں وہ سکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں تھیں اور انہیں جلد سے جلد محفوظ جگہ تک پہنچایا جاتا تھا۔جلسہ گاہ تک تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے راستے پر پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ تقریباً ایک کلومیٹر تک ایک حفاظتی راستہ بھی بنایا گیا تھا۔ جلسہ گاہ تک جانے کے لیے کارکنوں اور صحافیوں کو دو مقامات پر سخت تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑتا تھا جبکہ سکیورٹی اہلکار صحافیوں کے کیمرے بھی چیک کرتے رہے۔ تلاشی کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے درجنوں کارکن اجتماع میں شر کت کرنے سے محروم ہوگئے جس پر وہ خاصے برہم بھی نظر آئے۔ بینظیر بھٹو کے پشاور کے دورے کو اتنا خفیہ رکھا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر سمیت دیگر قائدین کو بھی شہر میں انکی سرگرمیوں کا علم نہیں تھا۔ |
اسی بارے میں الیکشن کا بائیکاٹ: نواز شریف29 November, 2007 | پاکستان بائیکاٹ کا آپشن کھلا ہے: بینظیر30 November, 2007 | پاکستان بائیکاٹ پرنظرثانی کریں: فضل الرحمان30 November, 2007 | پاکستان کاغذات کی جانچ پڑتال شروع27 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||