باجوڑ جھڑپیں، دو اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں دو اہلکار اور ایک طالب جنگجو ہلاک جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح صدر مقام خار میں باجوڑ سکاؤٹس کے اہلکاروں نے بعض طالبان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، تاہم مزاحمت کرنے پر دونوں طرف سے شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔ حکام کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ایک طالب ہلاک جبکہ ایک اور شدید زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق اس واقعہ کے بعد مسلح طالبان نےعنایت کلی میں واقع باجوڑ سکاؤٹس قلعہ پر حملہ کرتے ہوئے دو اہلکاروں کو ہلاک جبکہ تین کو زخمی کردیا۔ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ پولٹیکل انتظامیہ کے مطابق ایک اور واقعہ میں مسلح طالبان نے خار سے چند کلومیٹر دور لوئی سم کے مقام پر ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا تاہم سکیورٹی فورسز کی جانب سے توپخانے کے استعمال کے بعد طالبان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔اس واقعہ میں کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق جمعہ کو ہونے والی ان جھڑپوں کے بعد صدر مقام خار، عنایت کلی اور لوئی سم کی بازاریں بند ہوگئیں تاہم علاقے میں اب بھی شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ سوات میں مولانا فضل اللہ کے مبینہ مسلح حامیوں کے خلاف فوجی آپریشن کے ردعمل میں باجوڑ ایجنسی میں مبینہ طور پر سرگرم طالبان نے جرگے کی توسط سے حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ | اسی بارے میں باجوڑ دھماکہ، جرگہ سربراہ زخمی23 November, 2007 | پاکستان سکیورٹی کی صورتحال بہتر؟22 November, 2007 | پاکستان باجوڑ: طالبان نے اہلکار اغوا کر لیے19 November, 2007 | پاکستان ’یرغمالوں کو نقصان نہ پہنچائیں‘11 November, 2007 | پاکستان ’بینظیر پر ہمارا قرض ضرور رہتا ہے‘03 November, 2007 | پاکستان باجوڑ میں دو قبائلی ملک قتل20 October, 2007 | پاکستان باجوڑ سے سرکاری اہلکار اغواء09 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||