ایجنسیاں دھاندلی کر رہی ہیں: مخدوم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں اس کے انتخابی امیدواروں کو اٹھا کر لےگئی ہیں تاکہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لے سکیں۔ پیپلز پاٹی کے نائب چیئرمین مخدوم امین فہیم نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ غلام قادر مسوری بگٹی کے بیٹے جان محمد بگٹی اور سرفراز بگٹی ڈیرہ بگٹی ضلع سے ان کی جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنا چاہتے ہیں لیکن ان دونوں کو انٹیلیجنس ایجنسی کے اہلکاروں نے گرفتار کر لیا ہے۔ امین فہیم کے مطابق سرفراز بگٹی کو ایک ہفتہ قبل اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ انتخابات میں حصہ لینے اپنے علاقے پہنچے جبکہ ان کے بھائی کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت پکڑا گیا۔ انہوں نے اپنی جماعت کے امیدواروں کے مبینہ اغوا کی شدید مذمت کی اور کہا کہ انتخابی عمل شروع ہوتے ہی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے دھاندلی کا آغاز کر دیا ہے۔ ادھر الیکشن کمیشن نے بلوچستان سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے انٹیلیجنس ایجنسی کے ہاتھوں مبینہ طور پر اغوا کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ متعلقہ اضلاع کے ریٹرننگ افسران جوکہ ڈسٹرکٹ جج ہیں، انہیں کہا گیا ہے کہ وہ شکایات پر کارروائی کریں۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سکریٹری جنرل راجہ پرویز اشرف نے چیف الیکشن کمشنر کو تحریری شکایت کی ہے کہ ڈیرہ بگٹی سے ان کی جماعت کے قومی اسمبلی کے امیدوار احمد جان کلپر اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار جان محمد بگٹی کو نامزدگی فارم جمع کراتے وقت الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر سے اغوا کرلیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 267 سے ان کے امیدوار نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے چند روز پہلے سے صوبائی حکومت کو درخواست دی تھی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے لہٰذا انہیں سکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ وہ نامزدگی فارم روبرو جمع کرا سکیں۔
لیکن راجہ پرویز اشرف کے مطابق ان کے امیدوار کو سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی لہٰذا ان کے نامزدگی فارم قبول کیے جائیں۔ راجہ پرویز اشرف نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا تھا کہ نامزدگی فارم جمع کرانے کے لیے جانے والے ان کے گرفتار امیدواروں کی رہائی کا حکم دیں اور صوبائی الیکشن کمیشن کو ہدایت کریں کہ گرفتار امیدواروں کے نامزدگی فارم قبول کریں۔ اس بارے میں جب سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تحریری شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے کمیشن نے متعلقہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانون کے مطابق ضروری اقدامات کریں۔ واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں اگست سن دو ہزار چھ میں نواب اکبر بگٹی کو قتل کیے جانے کے بعد سے میڈیا کے داخلے پر پابندی ہے اور پورا ضلع ’نو گو ایریا‘ بنا ہوا ہے۔ غلام قادر مسوری بگٹی نواب اکبر بگٹی کے مخالف تھے اور حکومتی سرپرستی میں اپنے علاقے بیکڑ میں واپس آئے تھے لیکن ان کا پیپلز پارٹی سے بھی پرانا تعلق ہے۔ | اسی بارے میں بینظیر کا الیکشن کمشن کو خط26 November, 2007 | پاکستان مشرف کی حمایت بند کریں: ہاشمی01 November, 2007 | پاکستان پیپلز پارٹی پوسٹر اتارنے پر احتجاج29 October, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی میں انتخابات سےانتشار‘22 November, 2007 | پاکستان سابق وزرائے اعظم بینظیر، نواز شریف، چودھری شجاعت انتخابی میدان میں 26 November, 2007 | پاکستان ایجنسیوں کے لیے’ قانونی کور‘:عاصمہ 11 November, 2007 | پاکستان ’عدلیہ کی بحالی کے بناء انتخابات بیکار‘18 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||