BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 November, 2007, 18:19 GMT 23:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خود کش حملے: سکیورٹی سخت

حمزہ کیمپ
حمزہ کیمپ کے راستے کو دھماکے کے بعد عام ٹریفک بند کر دیا گیا ہے
راولپنڈی میں دو الگ الگ خود کش حملوں کے بعد فوج کے جنرل ہیڈ کواٹر، جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کے دفتر کے اردگرد سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے داخلی دروازے پر فوجیوں کے علاوہ پولیس کمانڈوز بھی تعینات کیےگئے ہیں اور اس طرف جانے والی سڑک کو بند کر کے مسلح فوجی تعینات کر دیے گئے ہیں۔


دوسرا دھماکہ راولپنڈی میں فیض آباد کے قریب واقع حمزہ کیمپ کے استقبالیہ پر ہوا جس کے بعد وہاں بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور ساتھ ہی گذرنے والی سروس روڈ کو دونوں جانب بند کر کے مسلح پولیس بھی تعینات کی گئی ہے۔

حمزہ کیمپ کے تباہ ہونے والے مرکزی گیٹ پر قنات لگی ہوئی ہے۔

یہ حمزہ کیمپ پہلے اوجڑی کیمپ کہلاتا تھا اور یہاں آئی ایس آئی کے دفاتر اور ان کے اہلکاروں کی رہائش گاہیں ہوتی تھیں۔

اوجڑی کیمپ یا حمزہ کیمپ کی ایک تاریخی حثیت بھی ہے اور سن اسی کی دہائی میں افغان جہاد کے لیے یہ اسلحہ فراہم کرنے والا بڑا مرکز تھا جس میں دس اپریل انیس سو اٹھاسی کو پراسرار دھماکے ہوئے اور سینکڑوں راکٹ اور گولے اسلام آباد تک میں آ کر گرے۔ ان دھماکوں سرکاری طور سو ہلاکتوں اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس کے فوراً بعد اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے ان دھماکوں کی تحقیقات کرائیں جن کہا جاتا ہے کہ سینئر فوجی افسروں کو ذمہ داری قرار دیا گیا لیکن ان تحقیقات کے فوراً بعد جونیجیو کی حکومت کو جنرل ضیاءالحق نے برطرف کردیا۔

سروس روڈ کو دونوں جانب بند کر کے مسلح پولیس بھی تعینات کی گئی

سنیچر کے حملوں کے بعد کئی ایمبولینس ہسپتالوں کی طرف جاتے ہوئے دیکھی گئیں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے’ کئی فوجی ایمبولینسوں کو سی ایم ایچ راولپنڈی میں داخل ہوتے ہوئے دیکھیں‘۔

وہاں موجود ایک مریض کے ساتھ آئے ہوئے شخص نے کہا کہ ’پہلےگاڑی اندر لے جانے دیتے تھے لیکن آج اس کی اجازت نہیں دے رہے ہیں‘۔ لیکن اسپتال کے باہر صورت حال معمول کے مطابق تھی۔

جی ایچ کیو اور حمزہ کیمپ پر خود کش حملوں کے بعد اگرچہ راولپنڈی میں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے اور روز کی طرح سڑکوں پر گاڑیاں رواں دواں ہیں۔ لیکن لوگوں کو تشویش ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ملک کی صورت حال روز بروز بگڑتی جارہی ہے ۔ بعض لوگ اس کا ذمہ دار حکمرانوں کو سمجھتے ہیں۔

اسی بارے میں
خود کش حملے کا مقدمہ درج
31 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد