BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 October, 2007, 12:16 GMT 17:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو: لڑکیوں کے سکول میں دھماکہ

حالیہ مہینوں میں کئی بار لڑکیوں کے سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے
حالیہ مہینوں میں کئی بار لڑکیوں کے سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے
پاکستان میں صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو میں شدت پسندوں نے لڑکیوں کے سرکاری پرائمری سکول کی عمارت کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا ہے۔

شدت پسندی کا یہ واقعہ ضلع ہنگو کے گاؤں کاہی میں پیش آیا جہاں پیر اور منگل کی درمیانی شب ڈھائی بجے سکول کی عمارت کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش کی گئی۔

ضلع ہنگو کے توغ سرائے پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کی وجہ سے سکول کی عمارت اور فرنیچر کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں حالیہ مہینوں میں کئی دھماکے ہوئے ہیں۔ ضلع ہنگو کے نزدیک واقع ٹانک اور ڈیرہ اسمعیل خان میں شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے وفاقی حکومت اور مقامی انتظامیہ کو کئی بار فوج اور نیم فوجی ملیشیا کا استعمال کرنا پڑا تھا۔

شدت پسندوں کی جانب سے ٹانک، ڈیرہ اسمعیل خان سمیت بنوں، لکی مروت اور ضلع ہنگو میں حجاموں، میوزک سنٹروں اور سی ڈیز کے کاروبار کرنے والوں کو اپنے کاروبار ترک کرنے کے لیے دھمکی آمیز خطوط موصول ہوتے رہے ہیں۔

کچھ عرصہ سے شدت پسندوں نے انگریزی میں تعلیم دینے والے سکولوں اور لڑکیوں کو سکولوں میں تعلیم دلانے کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔ ہنگو میں لڑکیوں کے پرائمری سکول کی عمارت کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی یہ حالیہ کوشش اسی سلسلے کی کڑی بتائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں
سرحد: ہلاک شدگان کے جنازے
20 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد