BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 August, 2007, 08:20 GMT 13:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو: قلعہ پر حملہ، گھنٹوں لڑائی

ہنگو (فائل فوٹو)
سکیورٹی فورسز کو قلعہ کے گیٹ کے سامنے ایک مبینہ طالب کی لاش ملی (فائل فوٹو)
صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کی رات کو درجنوں مبینہ مسلح طالبان کی جانب سے فرنٹیئر کانسٹبلری کے قلعہ پر ہونے والے حملے کے بعد تقریباً ساڑھے تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں ایک حملہ آور ہلاک ہوگیا ہے۔

یہ حملہ بدھ کی رات کو شمالی وزیرستان کی سرحد پر واقع ضلع ہنگو کے تحصیل ٹل میں واقع فرنٹئیر کانسٹبلری کے نوئی ڈنڈ قلعہ پر کیا گیا ہے۔

قلعہ کے انچارج نائب صوبیدار رشید احمد نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ بدھ کی رات ساڑھے دس بجے شمالی وزیرستان سے آئے ہوئے درجنوں مسلح طالبان نے قلعہ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا جسکے بعد سکیورٹی فورسز اور مبینہ طالبان کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی جو رات کے دو بجے تک جاری رہی۔

رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ لڑائی کے دوران دونوں طرف سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جسکے نتیجے میں قلعہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ان کے مطابق ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی اس وقت ختم ہوگئی جب مبینہ طالبان واپس چلے گئے۔

رشید احمد کے بقول بعد میں سکیورٹی فورسز کو قلعہ کے گیٹ کے سامنے ایک مبینہ طالب کی لاش ملی جسکے قریب راکٹ لانچر کا گولہ اور دستی بم بھی ملا ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل بھی ایک خودکش حملہ آور نے ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا جس میں ایک خاتون سمیت پانچ افراد افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد