ہنگو: ضلعی ناظم پر قاتلانہ حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوب مغربی ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ ضلعی ناظم ایک بم حملے میں بال بال بچے ہیں تاہم دھماکے سے ان کی گاڑی کو نقصان پہنچا ہے۔ ہنگو سے ملنے والی اطلاعات میں پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کی دوپہر ضلعی ناظم غنی الرحمان دفتر سے گھر جارہے تھے کہ ٹل روڈ پر تحصیل کے علاقے میں سڑک پر پہلے سے نصب شدہ بم پھٹنے سے ان کی گاڑی کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ گاڑی میں ان کے ساتھ ایک گن مین بھی سوار تھا۔ ضلعی ناظم نے اس واقعہ کے فوراً بعد بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ یہ ایک ریموٹ کنٹرول بم حملہ تھا جس کا نشانہ وہ تھے تاہم حملے میں وہ مکمل طور پر محفوظ رہے ہیں۔ واقعہ کے فوراً بعد اعلیٰ پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور مرکزی ہنگو ٹل شاہراہ کچھ دیر کے لیے عام ٹریفک کے لیے بند کردی گئی۔ ضلعی انتظامیہ نے بم کی ساخت معلوم کرنے اور تفتیش کے لیے کوہاٹ سے بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکاروں کو طلب کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ غنی الرحمان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) سے بتایا جاتاہے جبکہ ان کا شمار وفاقی وزیرداخلہ افتاب احمد خان شیرپاؤ کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ |
اسی بارے میں ٹانک میں دھماکہ، ہنگو میں فائرنگ21 January, 2007 | پاکستان ہنگو: امام بارگاہ پر راکٹ حملہ30 January, 2007 | پاکستان ہنگو: کرفیونافذ، جلوس پر پابندی30 January, 2007 | پاکستان ہنگو: دوسرے دن بھی حالات کشیدہ 31 January, 2007 | پاکستان ہنگو سے کرفیو اٹھا لیا گیا10 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||