ہنگو سے کرفیو اٹھا لیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کےجنوب مغربی شہر ہنگو میں حکام نے سنیچر کو بارہ دن سے نافذ کر فیو کو مکمل طور پر اٹھا لیاہے جب کہ سکیورٹی کے پیش نظر فوج کی علاقے میں تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہنگو کے ناظم غنی الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ اہل تشیع اور اہل سنت کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین نے بارہ رکنی جرگے کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے۔ ان کے بقول فریقین نے جرگے کے ساتھ ایک ایک کروڑ روپے بطور ضمانت جمع کئے ہیں۔ ضلعی ناظم کا مزید کہنا تھا کہ شہر میں عاشورہ کے دن سے بند سکول جمعہ کودوبارہ کھل گئے تھے جبکہ ہنگو بازار بھی مکمل طور پر کھلا ہوا ہے تاہم بارش کی وجہ سے بازار میں لوگوں کا رش کم ہے۔ غنی الرحمن کا کہنا تھا کہ شہر میں ممکنہ خود کش حملوں کی افواہیں گردش کر رہی ہیں جسکی وجہ سے حکومت نے کچھ دنوں تک ہنگو میں فوج کی موجودگی کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ عاشورہ کی صبح ہنگو میں قومی امام بارگاہ کے سامنے راکٹ گرنے اور اس کے بعد فائرنگ کے واقعات میں دو افراد ہلاک جبکہ چودہ زخمی ہوگئے تھے جس کے فوری بعد شہر کو فوج کے حوالے کر کے وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ اورکزئی ایجنسی کا بارہ رکنی مصالحتی جرگہ پیر کے روز سے اپنا کام شروع کرے گا۔ | اسی بارے میں ہنگو: دوسرے دن بھی حالات کشیدہ 31 January, 2007 | پاکستان عاشورہ: فوج اور فرنٹیئر کور تعینات29 January, 2007 | پاکستان کراچی میں محرّم کاجلوس اور دھرنا29 January, 2007 | پاکستان حملے: منظم سازش یا اتفاقیہ واقعات30 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||