حملے: منظم سازش یا اتفاقیہ واقعات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور ہنگو میں گزشتہ چند روز میں جان لیوا حملوں کے بعد یوم عاشور کا قدرے پرامن بیت جانا صوبہ سرحد کے حکام کے لیے یقیناً باعثِ اطمینان ہوگا۔ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کو اپنے آخری سال میں محرم الحرام میں حالات کو بگڑنے سے بچانے کا ایک سنگین چیلنج درپیش تھا۔ پیر کو یکے بعد دیگرے خودکش، راکٹ اور مارٹر حملوں سے ایک لمحے کو تو ایسا محسوس ہوا تھا جیسے حالات صوبائی انتظامیہ کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔ لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق بہتر سکیورٹی انتظامات، پولیس کی قربانیوں اور اہل تشیع کے ’صبر‘ سے حالات مزید خراب ہونے سے بچ گئے۔ اکثر لوگوں کے ذہنوں میں اب یہ سوال ابھر رہے ہیں کہ آیا ان سب حملوں کو ایک منظم سازش کے حصے کے طور پر دیکھا جائے یا الگ الگ اتفاقیہ واقعات کے طور پر۔ سرحد حکومت کا البتہ کہنا تھا کہ یہ سب کچھ ان کی حکومت کی گزشتہ چار برسوں کی بہتر کارکردگی کو خراب کرنے کی ایک منظم سازش تھی۔ وزیراعلٰی اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں حکومت کے مخالفین کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے ان مخالفین کی وضاحت نہیں کہ کہ یہ کون لوگ ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے ان حملوں خصوصاً پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے خودکش حملوں کو پولیس کو ٹارگٹ بنانے کی کوشش بھی قرار دیا۔ بات اگر پشاور حملے تک محدود رہتی تو شاید اس بیان پر یقین کر لیا جاتا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کے حملے نے بظاہر یہ واضح کر دیا ہے کہ حملہ آوروں کا ہدف پولیس نہیں بلکہ شاید قریبی امام بارگاہیں تھیں۔ بعض مبصرین کے خیال میں اگر پولیس ہدف ہوتی تو ان پر حملہ کہیں بھی کسی بھی وقت کیا جاسکتا تھا۔ اس کے لیے محرم الحرام ہی کو کیوں چنا گیا؟ ان کا کہنا ہے کہ صورتحال کو مزید سنگین ہونے سے بچانے کی کوشش میں حکام اسے سکیورٹی اداروں پر حملے قرار دے رہے تھے۔
حکومت اور بعض مبصرین ان حملوں کو خصوصا ڈیرہ اسمٰعیل خان والے واقعے کو ملک کے قبائلی علاقوں کے حالات سے جوڑنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں بلکہ بعض تو اتنی دور کی ہانک رہے ہیں کہ اس کا عراق کی صورتحال سے بھی تعلق ہوسکتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جنوبی وزیرستان میں محسود قبیلے کے جنگجوؤں کے سربراہ بیت اللہ محسود نے پاکستانی فوج کی ایک کارروائی کا انتقام لینے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان سے لوگوں کو شدید تشویش بھی ہوئی تھی۔ لیکن اس اعلان کے بعد سے پاکستان میں مختلف مقامات پر اب تک چار خودکش حملے ہوچکے ہیں۔ میرعلی میں ایک فوجی قافلے پر حملے میں چار سپاہی ہلاک ہوئے، اسلام آباد ہوٹل میں دو افراد، پشاور میں تیرہ جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں تین افراد۔ اس طرح مجموعی طور پر ان حملوں میں بائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم اس دوران بیت اللہ کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے کہ جس میں اس نے ان میں سے کسی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہو۔ اس وجہ سے ابہام ضرور موجود ہے۔ سب کی نظریں بیت اللہ پر لگی ہیں کہ آیا وہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں یا نہیں۔
وفاقی حکومت کے ایک اعلی اہلکار نے ڈیرہ اسماعیل خان سے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کی بھی خبر دی ہے جن میں دو بقول ان کے خودکش حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ اگر ایسا ہے تو حکومت ان افراد کو ذرائع ابلاغ کے سامنے کیوں نہیں لا رہی؟ اس سے صورتحال قدرے واضح ہوجائے گی کہ اس سارے معاملے میں اصل مجرم کون ہے اور ایسا کرنے سے شاید شیعہ سنی تناؤ سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ لیکن اب تک کی تحقیقات سے یا شاید سرکاری اہلکاروں کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں ان حملوں کے پش پشت عناصر کی نشاندہی میں کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ وہ اندھیرے میں تیر زیادہ چلا رہے ہیں۔ پشاور خودکش حملے کی مثال سامنے ہے۔ کئی روز گزر جانے کے باوجود حملہ آور کی شناخت ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ وہ کون تھا، کہاں سے آیا تھا کس نے اور کیسے بھیجا تھا اور ہاں اس کا ہدف کیا تھا۔ حکومت ان سوالوں کے آگے بظاہر بےبس دکھائی دے رہی ہے۔ شاید وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے خود ہی ایک بیان میں صورتحال کی وضاحت کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام حملوں کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا موقف تھا کہ ہنگو کا واقع گزشتہ برس عاشور کے موقع پر ہوئے تشدد کا تسلسل تھا اور ڈیرہ اسماعیل خان کا واقعہ قبائلی علاقے سے جڑا تھا جبکہ پشاور واقعے کی صورتحال پوری طرح واضع نہیں۔اس بیان سے ظاہر ہے کہ ان تمام حملوں کے پیچھے ایک نہیں کئی عوامل کارفرما ہیں جن سے حکومت کو نپٹنا ہے۔ |
اسی بارے میں ہنگو: کرفیونافذ، جلوس پر پابندی30 January, 2007 | پاکستان ڈیرہ آئی خان میں خود کش حملہ29 January, 2007 | پاکستان پشاور پولیس کا دوہرا نقصان29 January, 2007 | پاکستان حفاظتی انتظامات سے شہری پریشان30 January, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||