BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 January, 2007, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حفاظتی انتظامات سے شہری پریشان

کراچی پولیس
پولیس اہلکار جلوسوں میں آنے والوں کی تلاشی لیتے رہے
کراچی میں یومِ عاشور کے موقع پر جہاں ہزاروں سوگوران ماتمی جلوسوں اور مجالس میں شریک تھے وہیں دیگر شہری پولیس کی کڑی نگرنی اور حفاظتی انتظامات کی وجہ سے مشکلات کا شکار بھی رہے۔

دس محرم الحرام کو صبح سے ہی کراچی شہر کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ کو سیل کردیا گیا تھا ، جس وجہ سے شہر دو حصوں میں بٹا ہوا تھا اور یہی نہیں بلکہ افغان شکل وصورت کے حامل افراد کے لیے عاشورہ کا دن کسی امتحان سے کم ثابت نہ ہوا۔

سارا دن کبھی کلین شیو تو کبھی داڑھی والے پولیس کی زیادتیوں کا نشانہ بنتے رہے۔ صرف تاج کمپلیکس کے پاس ایک گھنٹے میں دو ایسے مبینہ مشکوک افراد کی پولیس نے آؤ بھگت کی۔ پولیس اہلکار بھی کیا کرتے انہیں بتایا ہی یہ گیا تھا کہ افغانیوں کی شکل وصورت کے لوگ کوئی واردات کرسکتے ہیں۔

کراچی پولیس نے ویسےتو اسلام آباد میں میرٹ ہوٹل کے باہر ہونے والے دھماکے کے بعد ہی اپنے طور پر انتظامات سخت کر دیے تھے، مگر پہلے سندھ کے ہوم سیکرٹری نے ایک پریس کانفرنس میں یہ کہہ کر لوگوں کو خوفزدہ کردیا کہ کراچی میں آٹھ ، نو اور دس محرم کو تخریب کاری کا خدشہ ہے اور پھر جب جب پشاور میں بم دھماکہ ہوا تو لوگوں کے خوف میں مزید اضافہ ہوگیا۔

بات یہیں حتم نہیں ہوئی اور سندھ کے محکمہ داخلہ کےمعاون وسیم اختر نے یہ کہہ کر خوف وہراس کےایک اور باب کا اضافہ کردیا کہ ڈیرہ اسماعیل سے بارود سے بھرا ایک ٹرک کراچی میں تخریبکاری کے لیے نکل چکا ہے۔ شام کو ایک نجی نیوز چینل نے کراچی پولیس چیف کے حوالے سے یہ بتانا شروع کردیا کہ ایک کار کے ذریعے بم دھماکے کے خدشہ ہے۔

اس دوران کراچی کے پولیس کے شعبے ایمرجنسی کو رینبو سینٹر میں بم کی اطلاع ملی مگر خوش قسمتی سے یہ اطلاع غلط ثابت ہوئی۔

ان اطلاعات کے بعد قومی شاہراہ اور سپر ہائی وے پر تلاشی کے لیے روکی جانے والی کاروں کی قطاریں لگ گئیں۔ سندھ پولیس کے سو پولیس اہلکاروں کو اس ڈیوٹی پر مامور کیا گیا تھا۔

جب چیکنگ پر مامور ایک افسر سے پوچھا گیا کہ آپ کس طرح چیکنگ کر رہے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ’میٹل ڈٹیکٹر‘ کی مدد سے۔ اب جبکہ گاڑی تو مکمل طور پر دھات کی ہوتی ہے تو اس میں موجود مواد کیسے پکڑا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ کراچی میں میرٹ ہوٹل میں دھماکے میں استعمال کی گئی کار بھی میٹل ڈٹیکٹر کی مدد سے چیک کی گئی تھی جو دھماکہ خیز مواد پکڑ نہیں سکا۔

نو محرم الحرم کو بھی ایک نامعلوم شخص نے پولیس کو ٹیلیفون پر اطلاع دی تھی کہ نشتر پارک میں شام کو چھ بجے خودکش بم دھماکہ ہوگا۔ اس نامعلوم شخص نے پولیس کو دو ٹیلی فون نمبر بھی دیے کہ اس سے ان نمبروں پر رابطہ کیا جائے۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ حملے آور نے سفید کپڑے پہنے ہوں گے۔

پولیس اہلکاروں نے اس اطلاع پر نشتر پارک چھان مارا۔ تکلیف سفید کپڑوں والوں کو ہی پہنچی لیکن کچھ برآمد نہ ہوا۔ پولیس نے جب نامعلوم شخض کی جانب سے دیے گئے نمبر پر ٹیلی فون کیا تو ایک نمبر بند تھا جبکہ دوسرا نمبر راولپنڈی کے ایک پولیس افسر کا تھا۔

گزشتہ دو دن کراچی میں کرفیو کا سماں رہا۔ سڑکیں ویران رہیں اور لوگ گھروں تک محدود تھے۔ یہاں تک کہ ایم اے جناح روڈ سے گزرنے والے ماتمی جلوسوں میں بھی اکثریت کراچی کے مقامی باشندوں کی نہیں بلکہ اندرون سندھ، گلگت ، بلتستان اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد