عبادالحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | بینظیر، چودھری، نواز شریف اور ملا و امریکہ ساتھ چل سکتے ہیں لیکن ہم سامراج کے ساتھ نہیں چل سکتے |
میر مرتضی بھٹو کی بیوہ اور پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کی چئرپرسن غنویٰ بھٹو نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور آمریت کے درمیان مفاہمتی پیکیج کے بعد بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی ایک نئی جماعت بن چکی ہے جب کہ ان کی جماعت ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات رکھنے والی اصل جماعت ہے۔ اتوار کو غنویٰ بھٹو نے شہید بھٹو گروپ کے رہنما ڈاکٹر مبشر حسن کے اقامت گاہ پر ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کو قبول کیا تھا لیکن جنرل ضیاء الحق سے معافی نہیں مانگی تھی۔ ان کے بقول بھٹو کی بیٹی بینظیر نے معافی مانگ کر اپنے خلاف مقدمات معاف کرائے اور عدلیہ کو خاطر میں نہیں لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کے بعد پاکستان آنے کے بعد کونسی جمہوریت لانا چاہتی ہیں۔ کیا یہ ویسی جمہوریت ہوگی جیسی امریکہ عراق، فلسطین اور افغانستان میں لانا چاہتا ہے۔ ان کے بقول بینظیر، بھٹو کی بیٹی کی حیثیت سے سیاست نہیں کر رہیں بلکہ بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی اب نئی پارٹی ہے جب کہ ان کی جماعت بھٹو کی اصل پیپلز پارٹی ہے۔ غنویٰ بھٹو کا کہنا تھا کہ اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بینظیر بھٹو پر حملہ نہیں ہوا بلکہ یہ حملہ امریکہ پر تھا۔
 | | | مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو جو پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کا مستقبل ہیں |
ان کا کہنا تھا کہ مفاہمتی آرڈیننس امریکہ کے کہنے پر جاری کیا گیا ہے اور پاکستانی حکمرانوں کو رات دو بجے جگا کر قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کرنے کے لیے کہا گیا۔غنویٰ بھٹو نے کہا کہ بینظیر، چودھری، نواز شریف اور ملا و امریکہ ساتھ چل سکتے ہیں لیکن ہم سامراج کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ وہ آئندہ انتخابات میں لاڑکانہ کے قومی اسمبلی کے حلقے دو سو چار سے انتخاب لڑیں گی جب کہ ان کی جماعت عام انتخابات میں ملک کے ہر حصے سے امیدوار میدان میں لائے گی۔ ان کےبقول پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) مفاد پرستوں اور سامراجی ایجنٹوں کے ساتھ انتخابی اتحاد نہیں کرے گی۔ |