غنویٰ بھٹو کی انتخابی رکاوٹ دور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بہو اور میر مرتضٰی بھٹو کی بیوہ غنویٰ نے گریجویشن کرلی ہے جس کے بعد وہ قومی انتخابات میں حصہ لینے کی اہل ہوگئیں ہیں۔ قومی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے گریجویٹ ہونے کی شرط ہے اور یہ شرط سنہ دو ہزار دو میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل متعارف کرائی گئی تھی۔ گریجویٹ ہونے کی شرط کی وجہ سے سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب، سابق سفیر بیگم عابدہ حسین اور غنویٰ بھٹو سمیت کئی سیاستدان اور سینئر پارلیمنٹیرین قومی انتخابات میں حصہ نہ لے سکے جبکہ کئی سیاستدانوں نے بی اے کے امتحان دیکر گریجوایشن کرلی۔ پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کی سربراہ غنویٰ بھٹو کی سنہ دو ہزار دو میں لبنان سے حاصل کردہ ڈگری کو گریجویشن کے مساوی تسلیم نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ عام انتخابات کے لیے نااہل ہوگئی تھیں۔ غنویْ بھٹو کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے لیکن انہوں نے صوبہ پنجاب کی یونیورسٹی سے بی اے کے امتحان میں حصہ لیا۔ غنویٰ بھٹو نے پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام بی اے کے سالانہ امتحان سنہ دو ہزار سات میں حصہ لیا اور صحافت، عربی اور فرینچ کے مضامین کا انتخاب کیا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی کے اعلان کردہ نتائج کے مطابق غنویٰ بھٹو نے بی اے کے امتحانات میں کل آٹھ سو نمبروں میں سے پانچ سو چھبیس نمبر حاصل کیے ہیں۔ اس طرح ان کو فرسٹ ڈویژن ملی ہے۔ بی اے کے امتحانات میں کامیاب ہونے کے بعد غنویٰ بھٹو کے لیے قومی انتخابات میں حصہ لینے کی رکاوٹ ختم ہوگئی ہے۔ |
اسی بارے میں مرتضی بھٹو قتل کیس: دس برس بعد20 September, 2006 | پاکستان ’حملوں سےحزب اللہ کی حمایت میں اضافہ ہوا‘22 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||