BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 October, 2007, 10:13 GMT 15:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: ہزاروں اہلکار تعینات، سکول بند

فوجی اہلکار (فائل فوٹو)
سوات میں ہزاروں فوجی اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں (فائل فوٹو)
فوجی حکام کے مطابق صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں فوجی اور نیم فوجی دستوں کے ڈھائی ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ صوبے کے نگران وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ کسی آپریشن سے بھی دریغ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

سوات سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح سویرے شہر کے تمام اہم مراکز اور سرکاری عمارتوں پر فوج اور فرنٹیر کور کے جوانوں نے اچانک کنٹرول سنبھال لیا۔

سوات کے مقامی صحافی شیرین زادہ کانجو نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح چار بجے سے پیرا ملٹری فورسز کی تعیناتی شروع ہوئی اور چار گھنٹوں تک سوات کے تمام داخلی راستوں کو سیل کردیا گیا تھا جس سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا رہا۔

ان کے مطابق ہزاروں جوان ائرپورٹ، سوات پبلک سکول، کبل، ایف سی کیمپ اور کانجو پل کی عمارت پر تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد میں تعیناتی سے علاقے میں سخت خوف وہراس پھیل گیا ہے جبکہ شہر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے غیر اعلانیہ طور پر بند کر دیےگئے ہیں۔

ادھر پشاور میں سرحد کے نگران وزیراعلی شمس الملک نے کہا ہے کہ حکومت نے سوات میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لئے سکیورٹی فورسز کو بڑی تعداد میں تعینات کیا ہے۔

 حکومت سوات کے عوام کی مشکلات پر خاموش نہیں بیٹھ سکتی اور انہیں دور کرنے کےلئے کسی آپریشن سے بھی دریغ نہیں کیا جاسکتا ہے اور حکومت جو بھی اقدام اٹھائی گی وہ قانون کے مطابق ہوگا
نگران وزیراعلی
پشاور میں نگران وزراء کی تقریب حلف برداری کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حکومت سوات کے عوام کی مشکلات پر خاموش نہیں بیٹھ سکتی اور انہیں دور کرنے کےلئے کسی آپریشن سے بھی دریغ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تاحال آپریشن زیر غور نہیں اور حکومت جو بھی اقدام اٹھائی گی وہ قانون کے مطابق ہوگا۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق سوات میں ممکنہ فوجی آپریشن کے بارے میں وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈیئر (ر) جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ سوات میں فوج کوئی آپریشن نہیں کر رہی اور صوبائی حکومت کی درخواست پر نیم فوجی دستے وہاں امن کی بحالی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے اور اسی کے حکم پر فرنٹیئر کور، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس کے دستے وہاں روانہ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا اس نئی تعیناتی سے تعلق نہیں ہے بلکہ وہ تو کافی عرصے سے سوات میں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ سوات میں گزشتہ چند ماہ سے امن وامان کی صورتحال انتہائی خراب رہی ہے۔ شہر میں پولیس اہلکاروں پر حملے معمول بن چکے ہیں جبکہ کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعتی محمدی کے کارکنوں کے ایک بار پھر منظم ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

ادھر ضلع ملاکنڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو نیم فوجی اہلکاروں کے ایک قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں چار اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

ملاکنڈ کے ضلعی ناظم فدا محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی رات نیم فوجی اہلکاروں کا ایک قافلہ سوات جا رہا تھا کہ چکدرہ کے قریب سڑک پر نصب ریموٹ کنٹرول بم پھٹنے سے قافلے میں شامل فرنٹیر کور کے چار اہلکار زخمی ہوگئے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بم سڑک کے کنارے پڑے ہوئے کوڑے کے ڈھیر میں نصب کیا گیا تھا۔

ضلعی ناظم کے مطابق فوجی گاڑی بم پھٹنے سے پھسل گئی جس سے اہلکاروں کو معمولی زخم آئے ہیں لیکن مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں ایک گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوئی ہے۔ زخمیوں کو مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

بدھاسیاحوں سے خالی سوات
سوات قدرتی مناظر اور نوادرات کے لیے مشہور ہے
گوتم بدھ کا مجسمہبدھا بچ گیا
بدھا کا مجسمہ بم سے اڑانے کی کوشش
رابطوں کا فقدان
اتنی بڑی تعداد میں فوجی کس طرح پکڑے گئے؟
گورنر سرحد گورنر سرحد نے کہا
مغویوں کے حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد