علی سلمان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | پہلی اکتوبر کو بھارتی ٹرک پاکستان میں داخل ہوئے |
پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تجارتی ٹرکوں کی آمد و رفت کا آغاز ہوگیا ہے اور تین ہندوستانی ٹرک پاکستانی حدود میں اشیائے خوردونوش اتار کر چلے گئے۔ اگلے مرحلے پر پاکستانی ٹرک سرحد عبور کریں گے۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے ٹرک اپنے اپنے ملک کی حدود میں سامان اتار کر واپس چلے جاتے تھے اور قلی اور مزدور یہ سامان سرحد کے دوسری جانب پہنچاتے تھے۔اب ہوا یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے ٹرک سرحد عبور کر کے سامان اتار سکیں گے۔ بعض تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ تجارتی ٹرکوں کی آمد و رفت کی دونوں ملکوں کے تجاری تعلقات میں ایک سنگ میل کی حثیت ہے۔ یہ نیا اقدام دونوں ملکوں کے درمیان جاری اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ ہے اور اس کا فیصلہ دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان بیس اگست کو ہوچکا تھا۔ ڈرائیور بلوندر سنگھ پیر کی صبح ہندوستانی ٹماٹروں سے لدا ٹرک لیکر آئے تو پاکستان داخلے کے لیے پاسپورٹ دکھانا پڑا، نہ ویزے کی عدم موجودگی ان کے راستے کی رکاوٹ بن سکی۔ وہ سرحد پر پہنچے تو پاکستانی عملے نے انہیں ایک عارضی اجازت نامہ جاری کر دیا۔  | | | ٹرکوں کے ڈرائیور اور عملے پر ویزے کی پابندی نہیں ہے | پاکستانی محکمۂ کسٹمز کے اسسٹنٹ کلکٹر شجاع حیدر کاظمی نے بتایا کہ حکام کے درمیان طے پانے والے معاہدے کےتحت دونوں طرف کے ڈرائیور اور ٹرک کا دیگر عملہ ویزے، پاسپورٹ کی پابندی سے مستشنیٰ ہوگا، البتہ انہیں موقع پر ایک با تصویر اجازت نامہ جاری کیا جائے گا۔بلوندر سنگھ ٹماٹروں کے چھ سو کریٹ اتار کر واپس چلے گئے لیکن پہلے ٹرک کے سرحد عبور کیے جانے پر دونوں ملکوں کے حکام نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی کسٹمز کے عملے نے بتایا کہ سرحد کے اس پار سے وزیر اعلی مشرقی پنجاب نے بینڈ باجے کے ساتھ ٹرک کو پاکستانی حدود میں روانہ کیا جبکہ پاکستان میں رینجرز اور کسٹمز کے حکام نے استقبال کیا۔ واہگہ کے راستے پاکستان داخل ہونے والے دو ٹرک ٹماٹر اور ایک ٹرک بھینس کا گوشت لیکر آئے تھے۔ ہندوستان سے ٹماٹر درآمد کرنے والے پاکستانی تاجر چودھری محمد مشتاق سے بی بی سی نے پوچھا کہ آخر اس اقدام سے انہیں کیا فائدہ ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے قلی اور مزدور آدھ کلومیٹر دور تک سامان لایا لے جایا کرتے تھے اب دونوں ملکوں کے ٹرک ساتھ ساتھ کھڑے کرے سامان منتقل کیا جاسکے گا جس سے لیبر کے اخراجات اور وقت دونوں کی بچت ہوسکے گی۔  | | | ہندوستان اور پاکستان کے مشترکہ مستقبل کا پیش خیمہ؟ | مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں میں تجارت میں اضافہ ہوگا لیکن دوستی کے اس اقدام کا ایک نقصان بظاہر دونوں جانب کے ان سینکڑوں قلیوں کو ہوا جو سامان کو اپنے کندھوں پر سرحد پار کراتے تھے۔ پاکستانی قصبے واہگہ کے رہائشی محنت کش محمود احمد نے کہا کہ وہ روزانہ سو دوسو روپے کما کر جاتے تھے لیکن آج خالی ہاتھ جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثر ہونے والوں میں وہ اکیلے نہیں بلکہ ان جیسے اور بھی کئی محنت کش اس نئے فیصلے سے پریشان ہیں۔کسٹمز کے اسسٹنٹ کلکٹر کا کہنا ہے کہ فی الحال مزدوروں کی روزگار میں کمی نظر آرہی ہے لیکن وہ یہ نہیں سوچ رہے کہ جب دونوں ملکوں کے درمیان ٹرکوں کی آمد و رفت بڑھے گی تو باالآخر انہیں فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ایک ٹرک تین سے چار گھنٹے میں سامان اترواتا تھا اور سارے دن میں دس سے پندرہ ٹرکوں کا سامان اتارا جاسکتا تھا، اب یہ کام آدھ پون گھنٹے میں ہوجاتا ہے۔ اس نئے اقدام کے بعد پینتیس سے چالیس تک ٹرک سامان اتار سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ دونوں طرف کے ٹرک محض سرحد کا ایک فرلانگ ہی طے کرسکتے ہیں اور سامان اتار کر انہیں فوری واپس جانا ہوتا ہے۔ ہندوستان سے تجارت سے وابستہ تجارتی حلقے نے امید ظاہر کی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب ہندوستانی ٹرک لاہور اور کراچی جبکہ پاکستانی ٹرک دہلی اور کلکتہ کے گوداموں تک پہنچ پائیں گے۔ یہ وقت کب آئے گا؟اس کا فیصلہ دونوں ملکوں کے حکام ہی کرپائیں گے۔
|