رعائتیں ختم کرنے پر زور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زرعی اجناس برآمد کرنے والے دنیا کے انیس چھوٹے بڑے ممالک کے اتحاد کینز گروپ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے زرعی اجناس کی پیداوار اور برآمدات پر دی جانے والی رعائتوں میں خاطر خواہ کمی کی فوری طورپرحتمی تاریخ مقرر کی جائے اورعالمی منڈی تک مساویانہ رسائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں یہ بات کینز گروپ کے تین روزہ اجلاس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ کی صورت میں سامنے آئی ہے ۔ مشترکہ اعلامیہ ایک پریس کانفرنس میں جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ عالمی منڈی تک مساوی رسائی کے لیے ضروری ہوگا کہ محصولات میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کی جائے لیکن ساتھ ہی ساتھ ترقی پذیر ممالک میں مقامی پیداوار کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی نظام بھی تشکیل دیا جائے۔ آج کے اجلاس میں ڈاکٹر منظور احمد بھی شریک تھے جو جنیوا میں ڈبلیو ٹی او کے لیے پاکستان کے مندوب ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ کپاس کی پیداوار پر دی جانے والی امدادی رقوم میں مختصر مدت میں بڑی کٹوتی کی جائے جس کا پاکستانی حکام کے مطابق براہ راست فائدہ پاکستان کو پہنچے گا۔ لیکن پاکستان میں کاشتکاروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے عہدیداروں نے آج شام ایک پریس کانفرنس میں کینز گروپ کے مشترکہ اعلامیہ کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومتی سبسڈی ختم کرنے سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو ناقابل تلافی مالی نقصان پہنچے گا۔ مشترکہ اعلامیہ میں بعض خاص اشیاء پر مقامی ضروت کے تحت سبسڈی اور دیگر پابندیوں کو برقرار رکھنے کی حمائت کی گئی لیکن اس جملے کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا نوٹ یہ بھی درج ہے کہ کینیڈا نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔اجلاس کے شرکاءنے امریکہ اور جاپان پر زور دیا کہ زرعی اصلاحات کے لیے انہیں فوری طور پر کردار ادا کرنا ہوگا اور اگر اس کام میں تاخیر ہوئی تو ڈبلیو ٹی او کے معاہدے کو عملی جامہ پہنایا جانا نا ممکن ہوجائے گا۔
پاکستان کے وزیر تجارت ہمایوں اختر خان کا کہنا ہے کہ انہیں اجلاس کے نتیجہ خیز ہونے اور اس کا پاکستان کو فائدہ پہنچنے کی بڑی امید ہے۔ کینز گروپ کے رکن ممالک دنیا بھر کی ایک چوتھائی زرعی اجناس برآمد کرتے ہیں لیکن اس میں یورپی یونین چین انڈیا اور امریکہ جیسے بڑے ممالک شامل نہیں ہیں۔ کل رات لاہور کے حضوری باغ میں مندوبین کے اعزاز میں دیے گئے ایک استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر مشرف نے بھی ترقی یافتہ ملکوں پر زور دیا کہ وہ تیسری دنیا کی مصنوعات کی عالمی منڈی تک رسائی آسان بنانے کے اقدامات کریں تاکہ غربت کا خاتمہ ہو جو صدر مشرف کے بقول انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دے رہی ہے۔ دوسری طرف مبصرین کاکہنا ہے کہ تین روزہ اجلاس میں کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا جاسکا اور ان کے نزدیک یہ اجلاس تشتند گفتند وخاستند سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ | اسی بارے میں زرعی معاہدوں کے خلاف مارچ17 April, 2007 | پاکستان مخصوص معلومات کے تبادلے پر اتفاق07 March, 2007 | پاکستان قبائلی علاقے: امریکی صنعتی زونز12 August, 2006 | پاکستان آرمی مزارعین تنازعہ، 30 گرفتار17 April, 2006 | پاکستان فوج اور کسانوں میں پھر کشیدگی 30 April, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||