مخصوص معلومات کے تبادلے پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد مذاکرات کے بعد پاکستان اور بھارت کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے دہشت گردی اور تشدد کے واقعات کو روکنے سے متعلق ایک دوسرے سے تحقیقات کے لیے مخصوص معلومات کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے۔ میزبان ملک پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ چھ مارچ کو انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اقدامات اور ایک دوسرے سے معلومات کے تبادلے کا طریقۂ کار وضع کرنے کے بارے میں بات چیت صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم من موہن سنگھ کی اس بارے میں سولہ ستمبر کو ہوانا میں ہونے والے اتفاقِ رائے کو آگے بڑھانے کا حصہ تھی۔ مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ جب ’اینٹی ٹیررازم مکینزم‘ کے تحت دونوں ممالک سہ ماہی ملاقات کریں گے تو مطلوبہ ضروری معلومات ترجیحی بنیاد پر فراہم کی جائے گی۔ پہلے بتایا گیا کہ یہ دو روزہ بات چیت ہے لیکن عین وقت پر بتایا گیا کہ یہ ایک روزہ بات چیت ہے۔ منگل کو بات چیت ختم ہونے کے بعد فریقین کے نمائندوں نے اپنے اپنے ممالک کے مخصوص صحافیوں کو بریفنگ دی اور انہیں کہا کہ وہ ذرائع کے حوالے سے خبر چلائیں۔ حکام کہتے رہے کہ کسی بڑے بریک تھرو کی توقع نہیں۔ لیکن بدھ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے معلومات کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے۔ حکام کے مطابق انسداد دہشت گردی کے بارے میں تعاون کے متعلق بات چیت کے دوران پاکستان نے بھارت سے افغانستان میں سرگرمیوں اور بلوچستان میں قوم پرستوں کی مدد کے بارے میں بات کی۔ پاکستان نے بلوچستان میں بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں بعض ثبوت خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات کے موقع پر ہندوستان کو دی تھی اور اس ملاقات میں جب ان سے دریافت کیا تو بھارت نے کوئی جواب نہیں دیا۔
پاکستان نے جب انڈیا کے وفد سے سمجھوتہ ایکسپریس کی تحقیقات کے بارے میں پوچھا تو بھارتی وفد نے کہا کہ ابھی وہ تحقیقات کر رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ بھارت نے ایک مشتبہ حملہ آور کا خاکہ پاکستان کو دیا اور کہا کہ انہیں شبہہ ہے کہ یہ وہی پاکستانی ہے جو سن دو ہزار چھ میں بھارت میں غائب ہوگیا تھا۔ مہمان وفد نے پاکستان سے اس مشتبہ شخص کے متعلق معلومات دینے کو کہا۔ واضح رہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کے بعد آگ لگنے سے اڑسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں زیادہ تر پاکستانی تھے۔ دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے منگل کو بتایا تھا کہ بدھ کو بھارتی وفد پاکستان کے سکریٹری خارجہ سے ملاقات کرے گا جس کے بعد بیان جاری کیا جائے گا۔ بدھ کی صبح بھارتی وفد نے خیر سگالی کے طور پر سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان سے ملاقات کی جس کے بعد بیان جاری کیا گیا۔ بیان کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کے بارے میں تعاون کے طریقہ کار وضع کرنے کی بات چیت میں پاکستانی وفد کی قیادت وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سکریٹری طارق عثمان حیدر جبکہ بھارتی وفد کی قیادت ان کے ہم منصب دونوں ممالک میں نصف صدی سے بھی زائد عرصہ تک پائی جانے والی بد اعتمادی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں نے دہشت گردی روکنے جیسے دونوں ممالک میں دہشت گردی کی تشریح پر بھی واضح اختلاف رائے رہا ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسند کارروائیوں کا پاکستان حامی رہا اور اُسے جہاد کہتا رہا ہے جبکہ ہندوستان ایسی کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی ذمہ داری بھی پاکستان پر عائد کرتا رہا ہے۔ دونوں ممالک کشمیر سمیت تمام دیگر تصفیہ طلب مسائل پر بھی گزشتہ تین برسوں سے بات چیت کرتے رہے ہیں لیکن ابھی تک مذاکرات جاری رہنے کے علاوہ کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے گزشتہ روز ایک بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان کو توقع ہے کہ بھارت سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحے کے متعلق معلومات پاکستان کو مہیا کرے گا۔ | اسی بارے میں مذاکرات کا پہلا دور مکمل06 March, 2007 | پاکستان پاک، انڈیا: خفیہ معلومات کے تبادلے پر مذاکرات06 March, 2007 | پاکستان منموہن تجاویز کا زبردست خیر مقدم27 March, 2006 | پاکستان ’دہشت گردی سےنمٹا جائےگا‘18 January, 2007 | پاکستان منموہن کی امن معاہدے کی تجویز24 March, 2006 | پاکستان بھارت تعاون نہیں کر رہا: دفترِ خارجہ05 March, 2007 | پاکستان ’انڈیا ہمیں تفتیش سے آگاہ رکھے‘04 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||