BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 September, 2007, 13:21 GMT 18:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلا، ملک گیر تحریک پھر شروع

جلوس کے شرکاء کی تعداد پہلے مرحلے کے مظاہروں سے کم تھی (فائل فوٹو)
جمعرات کو وکلاء نے پاکستان کے مختلف شہروں میں صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف اپنی تحریک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا اور کئی شہروں میں عدالتوں کے بائیکاٹ کے علاوہ لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں ریلیاں نکالی ہیں۔

اس دوسرے مرحلے کا نام ’اب راج کرے گی خلق خداٰ‘ رکھا گیا ہے جبکہ
وکلاء اور سول سوسائٹی نے جمعرات چھ ستمبر کو ’یوم دفاع آزادی عوام‘ قرار دیا ہے۔

لاہور میں جلوس
لاہور سے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا ہے کہ مال روڈ پر نکالے جانے والے جلوس میں وکلاء نے ’مُک گیا تیرا شو،مشرف ،گومشرف گو‘ اور جنرل مشرف کے ساتھ مبینہ ڈیل کرنے والوں کے خلاف نعرے لگائے۔یہ جلوس ایوان عدل سے نکلنے کے بعد لوئر مال سے ہوتا ہوا مال روڈ پر لاہور ہائی کورٹ چوک میں اختتام پذیر ہوگیا۔

جلوس سے پہلے لاہور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جنرل کونسل کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں کہا گیا کہ صدر جنرل مشرف کے اقتدار کے خاتمے تک وکلاء کی تحریک جاری رہے گی۔

لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر محمدشاہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے اقتدار کو طول دینے کے لیے جو بھی سیاسی جماعت ڈیل کرے گی وکلاء اس کے خلاف بھی تحریک چلائیں گے۔

وکلاء نے کہا کہ چیف جسٹس کی بحالی کے بعد وکلاءنے انتظار کیا تھا کہ اب سیاسی جماعتیں آگے بڑھیں گی لیکن انہوں نے عوام کو مایوس کیا ہے اس لیے وکلاء نے دوسرے مرحلے پر بھی خود ہی عوام کو قیادت فراہم کرنے کا فیصلہ اور تحریک شروع کی ہے۔

جلوس کے شرکاء پرجوش تو تھے لیکن مظاہرین کی تعداد اتنی بڑی نہیں تھی جتنی بڑی تحریک کے پہلے مرحلے میں دیکھنے میں آئی تھی۔ مال روڈ پر ایک طرف کی ٹریفک بھی بحال رہی۔

 تحریک کے مقاصد میں کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ طریقہ کار پر معمولی اختلاف ہوا ہے۔آئین کی بحالی،جمہوریت کے قیام اور فوجی بالادستی کے خاتمہ پر سب متفق ہیں اور اس کے لیے تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے پر بھی کوئی اختلاف نہیں ہے
عاصمہ جہانگیر

جلوس میں لوگوں کی کم تعداد میں موجودگی کی وجہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی عدم دلچسپی تھی اور جلوس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صبح کے اجلاس میں کیا گیا تھا البتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے مطابق وکلاءنے عدالتوں کے بائیکاٹ میں بھرپور حصہ لیا تھا۔

جلوس میں شریک انسانی حقوق کمشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ تحریک کے مقاصد میں کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ طریقہ کار پر معمولی اختلاف ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کی بحالی،جمہوریت کے قیام اور فوجی بالادستی کے خاتمہ پر سب متفق ہیں اور اس کے لیے تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے پر بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔

شہروں کی عدالتوں میں وکلاء کی واضح اکثریت نے بائیکاٹ کیا جس سے عدالتی کارروائی متاثر ہوئی

لاہور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طریقہ کار پر اختلاف اس لیے ہوا کہ نیشنل ایکشن کمیٹی نے جلوس کااعلان کرتے ہوئے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کو اعتماد میں نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے اسلام آباد اور کراچی میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد ہڑتال میں بھی شامل نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ تحریک کے مقاصد پر انہیں کوئی اختلاف نہیں ہے اور وکلاء نےعدالتی بائیکاٹ میں بھی حصہ لیا ہے اور اس فیصلے پر بھی پابند ہیں کہ جس دن صدرمشرف نے دوبارہ صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات جمع کروائے اس دن پورے ملک کی عدالتوں میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔ انہوں نےکہا کہ ’ ہم محض یہ چاہتے ہیں کہ فرد واحد فیصلے نہ کرے بلکہ سب مل کر فیصلے کریں۔‘

لاہور اور پنجاب کےدیگر شہروں کی عدالتوں میں وکلاء کی واضح اکثریت نے بائیکاٹ کیا جس سے عدالتی کارروائی متاثر ہوئی ہے۔

صوبہ سرحد میں احتجاج
پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صوبہ سرحد میں نیشنل لائرز ایکشن کمیٹی کی کال پر وکلاء کی طرف سے صدر مشرف کے دوبارہ باوردی انتخاب کے خلاف عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ کے علاوہ احتجاجی مظاہرے اور جلسے جلوسوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔

پشاور میں وکلاء نے جنرل مشرف کے دوبارہ باوردی صدر کے انتخاب کے خلاف پشاور ہائی کورٹ ، سیشن کورٹ اور تمام ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ اس موقع پر وکلاء نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں جبکہ ہائی کورٹ کی عمارت میں سیاہ پرچم اور بینرز بھی لگائےگئے تھے۔

وکلاء نے پشاور ہائی کورٹ سے سیشن کورٹ تک ایک احتجاجی مارچ کا بھی اہتمام کیا جس کی قیادت پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبد الطیف آفریدی ایڈوکیٹ اور پاکستان بار کونسل کے ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین قاضی محمد انور نے کی۔ مظاہرین نے اس موقع پر ’ گو مشرف گو‘ کے نعرے بھی لگائے۔

اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ کے بار روم میں وکلاء کی تمام تنظیموں کا ایک جنرل باڈی اجلاس منقعد ہوا جس میں سینئر قانون دانوں اور وکلاء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب میں وکلاء کے رہنماؤں نے کہا کہ آج سے ملک بھر میں ان کی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع ہورہا ہے اور یہ تحریک جنرل مشرف کو ان کے عہدے سے ہٹانے پر ہی ختم ہوگی۔

جس د ن جنرل پرویزمشرف صدارتی انتخاب کےلئے کاغذات جمع کرائیں گے اس دن وکلاء ملک بھرمیں یوم سیاہ منائیں گے:

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنرل مشرف فوری طورپر اقتدار سینیٹ کے چیئرمین کے حوالے کرکے ملک میں قومی حکومت تشکیل دیں جس میں تمام پارٹیوں کو نمائندگی دی جائے۔ اجلاس سے خطاب میں قاضی محمد انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ آج ملک بھر میں چھ ستمبر کا دن یوم دفاع کے طور پر منایا جارہا ہے لیکن وکلاء یہ دن مزید منائیں گے کیونکہ ان کے مطابق فوج کا حال تو یہ ہے کہ وزیرستان میں طالبان نے فوجیوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوم دفاع کو ’ اب راج کرےگی خلق خدا‘ کے نام سے منایا جائے گا۔

کوئٹہ میں علی احمد کرد کا خطاب

کوئٹہ سے نام نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچستان کے مختلف شہروں میں بھی وکلاءنے عدالتوں کا بائیکاٹ کرکے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

کوئٹہ میں وکلاءنے بلوچستان ہائی کورٹ سمیت تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور مقدمات کی پیروی کیلئے پیش نہیں ہوئے۔ اس موقع پر وکلاء نےسیاہ پٹیاں باندھ کر عدالت کے احاطے میں سیاہ جھنڈے لہرائے۔

بعد ازاں وکلاءنے ایک جلوں بھی نکالا جومختلف سڑکوں سے ہوتا ہوا پریس کلب کوئٹہ کے سامنے مظاہرے میں تبدیل ہوگیا۔ اس موقع پر پاکستان بار کونسل کے نائب صدرعلی احمد کرد نے کہا کہ ’وکلاء آئین اور جمہوریت کی بحالی، عدلیہ کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کیلئے متحد ہیں اور وہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔‘

قوم پرست وکلاء کے تحفظات
 جلوس میں شامل بعض قوم پرست پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے وکلاءنے ان تحفظات کابھی اظہار کیا ہے کہ جنرل پرویزمشرف حکومت کے خاتمے کے بعد وکلاء کا آئندہ ہدف کیا ہوگا کیونکہ اس وقت جنرل پرویزمشرف حکومت اوربے نظیربھٹوکے درمیان ڈیل کے ساتھ ساتھ ایم ایم اے کے جنرل سیکرٹری مولانافضل الرحمن او ر حکمران مسلم لیگ کے درمیان بھی رابطے جاری ہیں

بلوچستان ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس طرح وکلاء کی تحریک چیف جسٹس کیس میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی اسی طرح جنرل پرویزمشرف کے خلاف بھی ان کی یہ تحریک کامیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’اب پاکستان کے عوام کوجنرل پرویزمشرف وردی یا وردی کے بغیردونوں صورتوں میں قابل قبول نہیں ہیں۔‘

وکلاء کے نمائندوں نے کسی سیاسی جماعت کانام لیے بغیرکہا کہ جوبھی سیاسی جماعت جنرل پرویزمشرف کے ساتھ ڈیل کرے گی وہ وکلاء کےلئے قابل قبول نہیں ہو گی۔‘

اس موقع پر پاکستان بارکونسل کے نائب صدرعلی احمد کرد نے اعلان کیا کہ جس د ن جنرل پرویزمشرف صدارتی انتخاب کےلئے کاغذات جمع کرائیں گے اس دن وکلاء ملک بھر میں یوم سیاہ منائیں گے اور جس دن ان کے کاغذات کی جانچ پڑتال ہوگی اس دن الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے دھرنا دیں گے۔

مظاہرے کے اختتام پر وکلاءنے جنرل پرویزمشرف کے دوبارہ ممکنہ انتخاب اوران کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی ڈیل کے خلاف نعرے بلند کیے۔

ریلی سے قبل پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاءنے جلوس کی قیاد ت کرنے والے وکلاء نمائندوں کے سامنے تجویز رکھی کہ دوران ریلی ’گومشرف گو‘ کے نعرے نہیں بلکہ ’باوردی صدارتی انتخاب‘ کے خلاف نعرے لگائے جائیں تاہم وکلاء کے نمائندوں نے یہ تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنرل مشرف وردی یا بغیر وردی کسی صورت میں قبول نہیں ہیں۔ تاہم جب جلوس کے شرکاء مختلف سڑکوں سے گزر رہے تھے تواس وقت پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے وکلاء کے گروپ کی جانب سے باوردی صدر کے خلاف نعرے بلند ہوتے رہے جبکہ دوسرے وکلاء کی اکثریت بدستور’گومشرف گو‘ اور فوجی حکومت اورجرنیلوں کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے۔

جلوس میں شامل بعض قوم پرست پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے وکلاءنے ان تحفظات کا بھی اظہار کیا ہے کہ جنرل پرویزمشرف حکومت کے خاتمے کے بعد وکلاء کا آئندہ ہدف کیا ہوگا کیونکہ اس وقت جنرل پرویز مشرف حکومت اور بینظیر بھٹوکے درمیان ڈیل کے ساتھ ساتھ ایم ایم اے کے جنرل سیکرٹری مولانافضل الرحمن او ر حکمران مسلم لیگ کے درمیان بھی رابطے جاری ہیں اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں محمد نوازشریف نے بھی دس ستمبرکو وطن واپسی کااعلان کیا ہے۔

پنجاب، سرحد اور بلوچستان کے علاوہ جمعرات کو کراچی میں بھی عدالتوں کی جزوی ہڑتال ہوئی۔ سٹی کورٹ اور ملیر کورٹ میں عدالتی کام عملی طور پر بند رہا البتہ سندھ ہائی کورٹ کی بعض عدالتوں میں جزوی کام ہوا۔

صدر مشرف (فائل فوٹو)سیاست کی مشکل
’ایمرجنسی لگانےوالاجنرل ضروری نہیں مشرف ہو‘
مشرف پر سیاسی دباؤ
جنرل مشرف پر (ق) لیگ کے خدشات اور تحفظات
اعتزاز احسنٹاکنگ پوائنٹ
مشرف سے ڈیل مہنگی پڑےگی: اعتزاز احسن
’معطلی سے بحالی‘
چیف جسٹس کیس اور عدلیہ کی آزادی: ضمیمہ
فائل فوٹوجسٹس کی حمایت
ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج تحریک بن گیا
جسٹس افتخار چودھریوکلاء کی مشکل
مبینہ ڈیل کی خبریں پی پی کے وکلاء کا امتحان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد